فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ امریکا کے دوران پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی عزت و وقار کا سرچشمہ ہیں اور دیگر پاکستانیوں کی طرح پرجوش ہیں۔
فیلڈ مارشل نے اوورسیز پاکستانیوں کو "برین ڈرین نہیں بلکہ برین گین" قرار دیا اور ان سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے سرمایہ کاری اور تعاون کو فروغ دینے کی اپیل کی۔
آرمی چیف نے بھارت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو "وشواگرو" کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے لیکن عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں۔
جنرل عاصم منیر نے بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی ٹرانس نیشنل دہشت گرد سرگرمیوں کو عالمی تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل، قطر میں 8 بھارتی نیول افسران کا معاملہ اور کلبھوشن یادیو جیسے واقعات اس کی مثالیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی امتیازی اور دوغلی پالیسیوں کے خلاف کامیاب سفارتی جنگ لڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی اور معصوم شہریوں کو شہید کیا جس نے خطے کو خطرناک طور پر جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔
فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈا قرار دیا جیسا کہ قائد اعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی "شہ رگ" ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
جنرل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بدولت نہ صرف پاک، بھارت تنازع بلکہ کئی دیگر جنگوں کو روکا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی اشتعال انگیزی کا پرعزم اور بھرپور جواب دیا لیکن بھارت اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے۔
غزہ میں جاری نسل کشی کو بدترین انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے آرمی چف نے کہا کہ اس کے عالمی اور علاقائی سطح پر شدید مضمرات ہیں۔
آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان سے کئی دہشت گرد تنظیمیں جن میں فتنہ الخوارج شامل ہے پاکستان کے خلاف متحرک ہیں لیکن پاکستان دہشت گردی کے خلاف آخری فصیل ہے اور دہشت گردوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو پوری قوت سے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاک، امریکا تعلقات ایک نئی جہت کی جانب گامزن ہیں اور یہ دورہ تعلقات کو تعمیری اور پائیدار بنانے کا عزم رکھتا ہے۔
انہوں نے امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ ایم اویوز پر عملدرآمد کی پیشرفت کا ذکر کیا اور کہا کہ ممکنہ پاک، امریکا تجارتی معاہدے سے بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 64 فیصد نوجوان آبادی صلاحیتوں سے بھرپور مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
فیلڈ مارشل نے سوشل میڈیا کو ایک طاقتور ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر اسے "ساختہ افراتفری" پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے نئی نسل کی سوچ اور ترجیحات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن سے وابستگی اور ناگہانی آفات میں ان کے فوری تعاون کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ترقی اور خوشحالی دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں سے وابستہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ نہیں کہ "اگر"ہم اٹھیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ "کتنی جلدی اورکتنی قوت سے" ہم اٹھیں گے؟، آئیے اپنے آباؤ اجداد کی میراث قائم رکھتے ہوئے نئے جذبے اور مقصد کے ساتھ کھڑے ہو کر آگے بڑھیں۔






















