آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 2022-2024 کے لیے سندھ صوبائی زکوٰۃ فنڈ اور ضلعی زکوٰۃ کمیٹیوں سے متعلق آڈٹ رپورٹ جاری کر دی جس میں 33 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضلعی زکوٰۃ کمیٹیوں میں 24 کروڑ 40 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کو زکوٰۃ فنڈ سے 21 لاکھ روپے سے زائد کی غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں۔
اس کے علاوہ 7 کروڑ 23 لاکھ روپے کی دیگر آڈٹ مشاہدات بھی رپورٹ کیے گئے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سندھ بینک انتظامیہ نے 4,744 مستحقین کو اے ٹی ایم کارڈز فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے 3 کروڑ 89 لاکھ روپے کی رقم مستحقین تک نہ پہنچ سکی اور بینک کے پاس رہ گئی۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستحقین کو زکوٰۃ فنڈ سے غیر قانونی طور پر 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔
سندھ بینک کو تصدیقی چارجز کی مد میں 41 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی بھی رپورٹ ہوئی جبکہ 3 کروڑ 65 لاکھ روپے کے واجبات کی عدم وصولی کے پانچ کیسز سامنے آئے۔
آڈیٹر جنرل نے زکوٰۃ فنڈ کی تقسیم میں شفافیت لانے اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی سفارش کی ہے۔





















