نور مقدم قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم ظاہر ذاکر جعفر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کردی۔ مؤقف اختیار کیا کہ ماتحت عدالت نے ذہنی حالت کا تعین کرایا نہ ہی سپریم کورٹ نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی متفرق درخواست پر کوئی فیصلہ دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں نور مقدم قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم ظاہر ذاکر جعفر نے نظرثانی درخواست دائر کردی۔
ظاہر ذاکر جعفر نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ماتحت عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کا تعین نہیں کرایا، سپریم کورٹ سے بھی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کی، عدالت نے متفرق درخواست پر فیصلہ ہی نہیں دیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سزائے موت دینے کیلئے ویڈیو ریکارڈنگ پر انحصار کیا گیا، ٹرائل کے دوران ویڈیوز درست ثابت بھی نہیں کی گئیں، ملزم کو خلاف استعمال ہونیوالی ویڈیو ریکارڈنگز بھی نہیں دی گئیں، ٹرائل کے دوران عدالت میں وہ ویڈیوز چلاکر بھی نہیں دیکھی گئیں۔
ظاہر ذاکر جعفر کا مؤقف ہے کہ عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں، سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔





















