ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے ، افغانستان سے تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ہفتہ وار بریفنگ میں شفقت علی خان نے بتایا کہ ترک وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان پر کام کررہے ہیں ۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات مضبوط تھے، ہیں اور رہیں گے ۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ باہمی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ ان تعلقات میں بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے ۔ ہم افغانستان سے تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں ۔ دہشت گردی کا معاملہ مسلسل افغان دوستوں سے اٹھاتے رہتے ہیں۔ سارک کے غیر فعال ہونے کی بنیادی وجہ بھارت ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ترکیہ کے وزیر خارجہ سے رابط ہوا ۔۔ ترک وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی۔ بین الاقوامی سطح پر امن کے حوالے سے سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین دیرینہ تعلقات ہیں۔ پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورہ امریکا بھی انہی تعلقات کے تناظر میں ہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات مضبوط تھے، ہیں اور رہیں گے ۔امریکی اور بھارتی رہنماؤں کی بات چیت کی خبروں پر تبصرہ نامناسب ہے۔
شفقت علی خان کا کہناتھا کہ پاکستان تمام اہم معاملات پر چین کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے، تبت سمیت چین کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں، روس کا کابل حکومت تسلیم کرنے کا سنا ہے ،یہ دو ملکوں کامعاملہ ہے، روس خطے کا اہم ملک ہے،اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اتراکھنڈ میں مزارات کی مسماری بھارت کی مسلم دشمنی کا ثبوت ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں، پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورہ امریکا بھی انہی تعلقات کے تناظر میں ہے، امریکی و بھارتی رہنماؤں کی بات چیت کی خبروں پر تبصرہ نامناسب ہے، بھارت نے پہلگام حملے کی تحقیقات کے بغیر ہی پاکستان پر جارحیت کی، بھارتی وزیر خارجہ کا جوہری بلیک میلنگ کا بیان پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ تعلقات کا خواہشمند رہا ہے،
دفتر خارجہ کا کہناتھاکہ افغان مہاجرین کے پی او آر کارڈ کی مدت 30 جون کو مکمل ہوچکی، پی او آر کارڈ کی مدت بڑھانے کا فیصلہ وزارت داخلہ و متعلقہ ادارے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بار بار بھارت کی جنگی تیاریوں کی جانب توجہ دلا چکے، پاکستان کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہناتھا کہ نائب وزیراعظم معاہدہ ابراہیمی پر اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کرچکے، پاکستان کے فلسطین کے دو ریاستی حل کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ترجمان کا کہناتھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم عالمی فورم ہے، ایس سی او وزراء دفاع کانفرنس میں بھارتی مشیر سے ملاقات نہیں ہوئی، پاکستان کے افغانستان کے ساتھ باہمی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
چین بنگلہ دیش پاکستان کا اکھٹا ہونا چین کا ترقیاتی ایجنڈے کے تحت ہے، اسرائیل اور ایران کے حوالے سے ہمارا مؤقف انتہائی واضح ہے، ایران ہمارا برادر اور دوست ملک ہے، سارک کا اجلاس جب بھی ہوا پاکستان میں ہی ہوگا، پاکستان سارک سربراہ اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔






















