پاکپتن کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں 20 بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب اسپتال پہنچ گئی، مریضوں اور لواحقین نے شکایات کے انبار لگادئے۔ مریم نواز نے شکایت پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس عدنان غفار کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، ڈی سی کو بھی عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کردی گئی۔
پاکپتن کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں 20 بچوں کی اچانک اموات پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوارٹر اسپتال اسپتال کا دورہ کیا، مریضوں اور اہلخانہ نے اسپتال میں بدنظمی، غفلت اور دیگر شکایات کے انبار لگادئیے۔
شہریوں نے کہا کہ ادویات موجود ہونے کے باوجود فارمیسی سے گٹھ جوڑ کرکے باہر سے منگوائی جارہی تھیں۔ ایم ایس اور دیگر ذمہ داروں کی جانب سے حقائق کی پردہ پوشی کی کوشش گئی، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت ایکشن لیتے ہوئے سی او ہیلتھ پاکپتن ڈاکٹرسہیل اصغر، ایم ایس ڈاکٹرعدنان غفار کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرنے کی ہدایت کردی۔
رپورٹ کے مطابق ساہیوال سے نئے ایم ایس کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن تعینات کردیا گیا، مریضوں اور اہل خانہ سے 50 روپے اور 100 روپے پارکنگ فیس لینے کی بھی شکایات ملیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اوور چارجنگ کی شکایت پر پارکنگ کمپنی کے مالک اور انچارج کی گرفتاری کی ہدایت کردی، پرائیویٹ لیب سے ملی بھگت کرنے پر 3 لیب ٹیکنیشنز کو فارغ کردیا گیا جبکہ پاکپتن اسپتال کےعملے سے ملی بھگت پر 3 پرائیویٹ لیب کو سیل کرنے اور ڈی سی پاکپتن کو چارج چھوڑنے کا حکم دیدیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اسپتال کے ایکوپمنٹ آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو احساس دلانے کیلئے سخت فیصلے ضروری ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے دفاتر میں اے سی چلنے، وارڈز اور مریضوں کے اے سی بند ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، اسسٹور میں موجود ہونے کے باوجود ادویات نہ ملنے پر بھی سخت سرزنش کی اور سرکاری اسپتالوں میں کوڈ ریڈ اور کوڈ بلیو سسٹم نافذ کرنے کا حکم دیدیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اسپتالوں میں دوران ڈیوٹی ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف کے موبائل استعمال کرنے پر پابندی کیلئے اقدامات اور اسپتالوں میں رابطے کیلئے پیجر سسٹم نافذ کرنے کی بھی ہدایت کردی۔
مریم نواز نے کہا کہ تمام انکوائریز کے فیصلے ایک ہفتے کے اندر کیے جائیں، اسٹور میں دوائیاں موجود ہیں اور پرچی پر لکھ کر میڈیسن باہر سے منگوائی جاتی ہیں، 100 روپے ادویات کیلئے دے رہے ہیں، عوام کو دوائی کیوں نہیں مل رہی؟۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی ایچ کیو اسپتال میں مفت ادویات کیلئے اعلان نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کوشش کریں تو حالات کا پتہ چل سکتا ہے، اسپتال کے ایک راؤنڈ میں صورتحال سامنے آگئی، 90 فیصد مریض باہر سے ادویات منگوانے کی شکایت کررہے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ درکار مشینری اور آلات پیک پڑے ہوئے ہیں لیکن استعمال میں نہیں لائے جاتے، اسپتالوں اور اداروں میں کام نہ کرنے والے قوم کے اصل ملزم ہیں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی نہیں، خدمت کے احساس کا فقدان ہے، کیا لوگ اسپتالوں میں مرنے کیلئے آتے ہیں؟، مجرمانہ غفلت پر اللہ تعالیٰ کو بھی جواب دینا ہوگا، مجھ سے بچ سکتے ہیں اللہ کی پکڑ سے کیسے بچیں گے۔
ان کا عملے کو تنبیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دوسروں کے بچوں کو اپنی نظر سے دیکھنا سیکھیں، قتل کرنے کیلئے ہتھیار ضروری نہیں ہوتے، مجرمانہ غفلت بھی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔





















