وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ سی پیک کے تحت پاکستان نے شاہراہوں کی تعمیر میں واضح ترقی کی۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں عالمی معیار کے مطابق کارگو کیلئے فعال ہیں۔
چین میں ایس سی او وزرائے ٹرانسپورٹ کانفرنس سے خطاب میں عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت پاکستان نے شاہراہوں کی تعمیر میں واضح ترقی کی ہے ۔ خنجراب کے شمالی بارڈر سے گوادر اور کراچی تک رسائی موجود ہے۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں عالمی معیار کے مطابق کارگو کیلئے فعال ہیں ۔ ایس سی او کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔
وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ پاکستان نے خنجراب سوست روڈ کو 2023 سے سال بھر کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ چین کے مشترکہ سلک روڈ اسٹیشن کے منصوبوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ہم افغانستان اور ایران کی سرحدوں سے آگے تجارت پھیلانا چاہتے ہیں، مزید تجارتی راہداریاں پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتی ہیں۔ ازبکستان ، افغانستان اور پاکستان ریلوے کا منصوبہ علاقائی ترقی کا سنگ میل ہو گا۔ کاخارلاچی سے ترمیز براستہ مزار شریف 722 کلومیٹر ریل ٹریک بچھانے کا منصوبہ ہے۔
وزیرمواصلات نے کہا پاکستان سمارٹ ٹرانسپورٹ سسٹمز کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ ملک میں ٹرانسپوڑٹ سسٹم کی ڈیجیٹیلائزیشن پرکام کر رہے ہیں۔ 126 ممالک کیلئے ''ویزا آن ارائیول'' پروگرام کے تحت 20 ہزار ویزے جاری کئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی ترقی کا راستہ باہمی اعتماد و تعاون اور جدید نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ ایس سی او ممالک کے ساتھ مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی تشکیل پر کام جاری ہے ۔ ٹرانسپورٹ نقل و حرکت ہی نہیں ترقی و باہمی تعاون کا ذریعہ ہے۔ علاقائی امن خوشحالی اور رابطے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم اہم ترین فورم ہے۔ پاکستان 2017 سے ایس سی او کا مستقل رکن اور مواصلات کی بہتری کیلئے پرعزم ہے۔





















