جولائی کے پہلے 15 دنوں کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10.39 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا گیا، ڈھائی روپے کاربن لیوی بھی عائد کردی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اسرائیل تنازع اور ڈالر کی قیمت میں اضافے سے پیٹرولیم قیمتیں بڑھیں۔
نئے مالی سال کے آغاز سے ہی عوام پر مہنگائی کی یلغارکردی گئی، حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کر دی، پیٹرول 8 روپے 36 پیسے اضافے کے ساتھ 266.79 روپے فی لیٹر ہوگیا، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 10.39 روپے بڑھ کر 272.98 روپے تک جا پہنچی۔
حکومت نے صارفین پر پیٹرولیم کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی عائد کردی، اس مد میں پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر ڈھائی روپے فی لیٹر عوام کی جیب سے نکالے جائیں گے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت بھی 155 روپے 87 پیسے سے بڑھا کر 165 روپے 30 پیسے فی لیٹر کردی گئی، معاشی ماہرین اس مہنگائی کی وجہ ایران اسرائیل تنازع اور ڈالر مہنگا ہونے کو سمجھتے ہیں۔
ماہر معاشیات خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ جب ریجن میں کونفلکٹ ہوا تو اس کی وجہ سے ایک رسک پریمیم پیدا ہوا، انٹرنیشنل مارکیٹ آف آئل کی قیمتوں میں وہ تقریباً 10 ڈالر کا تھا، قیمتیں 65 ڈالر سے 75 ڈالر فی بیرل پر چلی گئیں، روپے کی کمزوری نے بھی اس میں اضافہ کیا۔
ماہرین کہتے ہیں الیکٹرک وہیکلز سمیت دیگر متبادل ذرائع مہنگے ایندھن کا توڑ بن سکتے ہیں۔
خاقان نجیب نے مزید کہا کہ جب کروڈ آئل کی عالمی قیمت 80 سے 90 ڈالر پر چلی جاتی ہے تو پاکستان کی معیشت اور امپورٹ پر بڑا اثر پڑتا ہے، ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن اور 78 روپے کی پی ڈی ایل کو کم کرنے کیلئے فاسل فیول سے بجلی کی طرف جانا ہوگا، ہمارے پاس 45 ہزار میگا واٹ بجلی موجود ہے۔
ماہرین کہتے ہیں مقامی سطح پر آزاد اور مسابقتی مارکیٹ کا قیام عمل میں لا کر بھی عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے۔



















