سانحہ سوات میں 13 افراد کی موت کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے دریا کنارے تعمیر کئے گئے ہوٹل ، پارک اور دیگر غیر قانونی عمارتیں گرا دیں۔
سوات میں 2 روز سے جاری آپریشن کے دوران 40 سے زائد عمارتیں گرائی گئی جبکہ وفاقی وزیر امیر مقام کے ہوٹل کی دریائے سوات کے قریب موجود دیوار بھی گرادی گئی ۔
امیر مقام کے کزن بحراللہ نے سماء کو بتایا کہ دریا کنارے موجود ہوٹل کا این او سی 2005 میں انتظامیہ کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔
دوسری جانب مقامی تاجروں اور ہوٹل ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جس پر ڈپٹی کمشنر سوات نے منگل کو دن دو بجے اجلاس طلب کرلیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف آپریشن اپنی ناکامی چھپانے کے لئے کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ سانحہ سوات میں گمشدہ 14 سال کے عبداللہ کی تلاش کے لئے آپریشن آج چوتھے روز بھی جاری رہا۔






















