جمعہ کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے بعد عام انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کی تقسیم کا سابقہ اعلامیہ بحال ہوگیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد حکومت سازی سے 20 اراکین دوری پررہ گئی ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل 20 اراکین اگر اپوزیشن کی صفوں میں شامل ہوجائیں تو صوبے میں اقتدار کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے لئے 73 اراکین کی حمایت درکار ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمشن کی جانب سے عام انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کی تقسیم کا سابقہ اعلامیہ بحال ہوگیا اور اس طرح 21 خواتین اور 4 اقلیت نشستیں اپوزیشن جماعتوں کو ملنے سے ان کی عددی اکثریت ترپن تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکمران اتحاد کو اس وقت اسمبلی میں 92 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
اپوزیشن اتحاد صوبے میں حکومت سازی سے بیس نشستوں کے فاصلے پر رہ گئی ہے اگر حکمران تحاد کے 20 اراکین اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں تو علی امین گنڈا پور حکومت گر جائے گی اور اپوزیشن اتحاد سادہ اکثریت یعنی 73 کے ساتھ حکومت سازی کرسکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا کی اپوزیشن مضبوط ہوگئی ہے اور اب وہ اسمبلی اجلاس کے لئے بھی ریکوزیشن کرسکے گی۔





















