خیبر پختونخوا میں حالیہ موسلا دھار بارشوں اور آبی ریلوں سے 8 بچوں اور 5 خواتین سمیت 20 افراد جاں بحق جبکہ 10 زخمی ہوگئے ہیں۔ 57 مکانات کو نقصان پہنچا جس میں 6 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے رپورٹ کے مطابق حالیہ مون سون طوفانی بارشوں اور اس کے بعد سیلابی ریلوں میں 20 افراد جاں بحق ہوگئے۔ سوات سانحے میں 13 افراد جاں بحق ہوئے، جس میں 5 بچوں اور 5 خواتین سمیت 11 افراد شامل ہیں جبکہ 6 افراد زخمی بھی ہوئے۔
ایبٹ آباد میں سیلابی ریلے میں 3 بچے بہہ کر جاں بحق ہوگئے۔ چارسدہ اور ملاکنڈ میں بھی ایک ایک شخص سیلابی ریلے کی نذر ہوگیا جبکہ مانسہرہ میں چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے ۔
طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مختلف مقامات پر 57 مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے جس میں 6 مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ صوابی میں چھت گرنے سے 6 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔
عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل
پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارشوں کا سلسلہ یکم جولائی تک جاری رہنے کا الرٹ تمام متعلقہ اضلاع کو پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔ خیبرپختونخوا کے بیشتراضلاع میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی کردی گئی ہے۔
حکام نے قومی و صوبائی شاہراہوں پر مسافروں کو محتاط رہنے اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، عوام سے گزارش ہے کہ آندھی، ژالہ باری اور گرج چمک کے دوران محفوظ جگہوں پر پناہ لیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا کےبیشتراضلاع میں اگلے24 تا48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے، سوات، چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، پشاور، بنوں اور وزیرستان میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے
دریائے سوات، پنجکوڑا اور معاون ندیوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ متوقع ہے، دریائے کابل میں آیندہ 48 گھنٹوں میں کم درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت ہے کہ متبادل روٹس اور ٹریفک کے بہاؤ کو مؤثر بنایا جائے، پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی اپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پردیں۔





















