قومی اسمبلی میں موجودہ اور گذشتہ مالی سال کےلئے سپلیمنٹری گرانٹس کثرت رائے سے منظوری کرلی گئی۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کی منطوری کا عمل مکمل ہونے پر ایوان کا شکریہ ادا کیا۔
قومی اسمبلی نے آئندہ وفاقی بجٹ کے بعد موجودہ اور گذشتہ مالی سال کیلئے ضمنی گرانٹس کی بھی کثرت رائے سے منظوری دیدی ۔ مالی سال 24-2023 کیلئے 180 ارب 87 کروڑ جبکہ مالی سال 25-2024 کیلئے ایک ارب57 کروڑ سے زائد کی ضمنی گرانٹس منظور کی گئیں ۔ اپوزیشن اس دوران اسپیکر ڈائس کے سامنے مسلسل شورشرابا کرتی رہی ۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اپنی اور ساتھی ارکان کی تقاریر حزف کئے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ اسپیکر ایاز صادق نے جواب دیا میں نے ہی آپ کی تقریر حذف کی۔ جب چیمبر جاتا ہوں تو اسٹاف کو حذف کی ہدایات دیتا ہوں۔ اس وضاحت کےباوجود اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا ۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اختتامی کلمات میں کہا ہم بجٹ کی منظوری کا عمل مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے ۔ انہوں نے بجٹ سیشن میں ڈیوٹی دینے والے سرکاری ملازمین کیلئے 5 تنخواہوں کے مساوی بجٹ اعزازیہ کا اعلان کیا ۔ شورشرابے کے دوران ہی قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔






















