جسٹس ریٹائرڈ شوکت صدیقی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتیاں اسلام آباد سے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
اسلام آباد میں تقریب سےخطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ شوکت صدیقی نےکہا کہ این آئی آر سی کے چھ میں سے پانچ بینچز کو ویڈیو لنک کے ساتھ منسلک کر دیا ہے,وکلا اب اپنے شہروں میں رہ کر ویڈیو لنک پر دلائل دے دیتے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ ٹی اے ڈی اےکی مد میں جو لاکھوں روپےکےرقم بچے گی اس کو ملازمین پرخرچ کیا جا رہا ہے،صرف پشاورکا بینچ ابھی فی الحال ویڈیو لنک سےمنسلک نہیں ہوا،اسلام آباد ہائی کورٹ کی موجودہ بلڈنگ جس جگہ پر ہے وہ ہم نے دوہزار بارہ میں لی تھی۔
سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نےکمیٹی بنا کر یہ کام میرے ذمے لگایا تھا۔ اس بلڈنگ کے ڈیزائن کے حوالے سے ہم نےایک مقابلہ کرایا جس میں سیکڑوں آرکیٹیکس نے حصہ لیا تھا,یہ کنٹریکٹ تبدیل ہوا جس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہےجسے میں یہاں بیان نہیں کرنا چاہتایہ بلڈنگ نومبر دوہزار پندرہ میں مکمل ہونی تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔کنٹریکٹ تبدیل ہونے پر منصوبہ پانچ سال تاخیر کا شکار ہوگیا۔






















