سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پارلیمنٹ کی مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔ کنول شوذب کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل میں اصغر خان کیس کا حوالہ دیا، کہا کہ میں اسی عدالت میں موجود تھا ایک طرف اسلم بیگ تھے دوسری طرف اصغر خان، دونوں نے بیان حلقی دیا تھا کہ ہم نے الیکشن میں مداخلت کی تھی، کہا گیا یہ سب قومی مفاد کے تناظر میں کیا گیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم تو فیصلہ کرتے ہیں کیا سیاستدان اس پر عمل کرتے ہیں؟، ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی دور میں فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہے، حالات خود خراب کرتے ہیں پھر ہمارے پاس آ جاتے ہیں، سیاسی جماعتوں کو صرف اتنا کہتے ہیں سدھر جائیں۔
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس سید امین الدین کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، کنول شوذب کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل کا آغاز کیا۔
سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کی بنیادی ذمہ داری آئینی و بنیادی حقوق کی حفاظت ہے اور سپریم کورٹ آرٹیکل 187 اور 184/3 کو ملا کر مکمل انصاف فراہم کرسکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 184/3 کا استعمال صرف عوامی مفاد میں ہوتا ہے؟، سلمان اکرم نے جواب دیا کہ جی ہاں، عدالت عوامی اور بنیادی حقوق کی حفاظت کیلئے اس اختیار کا استعمال کر سکتی ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 189 کو آرٹیکل 187 کے ساتھ نہیں پڑھا جاسکتا۔ اس پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کی حد کیا ہے؟، سلمان اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی یہ نہیں کہہ رہی کہ ہمیں ریلیف کیوں دیا گیا، بلکہ مؤقف یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے 11 ججز نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا مکمل انصاف کے اختیار کیلئے آرٹیکل 184/3 ضروری ہے؟، سلمان اکرم نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کسی بھی کیس میں مکمل انصاف کے اصولوں کو لاگو کرسکتی ہے۔
سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا نے ووٹ کے بنیادی حق پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینا آرٹیکل 17(2) اور 19 کے تحت ایک بنیادی حق ہے، اگرچہ اس پر قانون کے ذریعے ضوابط لاگو ہوتے ہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ووٹ کا حق مخصوص عمر کے بعد ہی دیا جاتا ہے، کیونکہ ہر بنیادی حق کا استعمال قانون کے مطابق ہی ممکن ہوتا ہے۔
دلائل کے دوران سلمان اکرم راجا نے اصغر خان کیس کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ وہ خود اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھے، جہاں اسلم بیگ اور اصغر خان نے حلفاً اعتراف کیا کہ انہوں نے الیکشن میں مداخلت کی تھی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ حالات سیاستدان خود خراب کرتے ہیں اور پھر عدلیہ سے رجوع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی دور میں عدالتی فیصلوں سے فائدہ اٹھاتی ہے، سیاسی جماعتوں کو ہتے ہیں سدھر جائیں۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سچ تک پہنچنے کیلئے عدالت کو اصل حقیقت کا جائزہ لینا ہوتا ہے، صرف فریقین کے مؤقف پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں کیا آئین کو بدلا گیا؟، جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ کوئی آئین نہیں بدلا گیا بلکہ صرف امیدواروں کی حیثیت کی وضاحت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ 8 فروری کو سنایا گیا اور اس میں واضح کیا گیا کہ یہ امیدوار پی ٹی آئی کے ہی ہیں۔
آخر میں جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کل آپ نے باپ پارٹی کا ذکر کیا تھا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسے مخصوص نشستیں دینا درست تھا؟۔ سلمان اکرم نے جواب دیا کہ مکمل غلط بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ پاکستان میں الیکشن لڑنا مہنگا عمل ہے اور بہت سی جماعتوں کو باصلاحیت مگر کم وسائل رکھنے والے امیدوار میسر نہیں آتے۔
سماعت کے دوران مختلف ججز نے سوالات اٹھائے کہ سپریم کورٹ کو مکمل انصاف فراہم کرنے کیلئے کیا دائرہ اختیار حاصل ہے اور کیا تکنیکی رکاوٹوں کے باوجود فیصلے دیے جا سکتے ہیں۔ سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ جب بنیادی حقوق متاثر ہوں تو سپریم کورٹ کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے، چاہے آئین میں اس کیلئے مخصوص شق موجود نہ ہو۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔



















