آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کے تناظر میں یکم جولائی سے ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ سسٹم کے نفاذ میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ سگریٹ ، سیمنٹ ، پولٹری، مشروبات ، کھاد اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی نگرانی بڑھائی جائےگی ۔ نئے مالی سال کے ٹیکس ہدف میں 389 ارب روپے کے انفورسمنٹ اقدامات شامل ہیں۔
آئندہ مالی سال میں ٹیکس ہدف کا حصول یقینی بنانے کے لئے انفورسمنٹ اقدامات فوری بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ یکم جولائی سے ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ سسٹم کے نفاذ میں سختی لائی جائے گی ۔ ایف بی آر کے مطابق انفورسمنٹ اقدامات نہ لینےکی صورت میں 700 ارب کے نئے ٹیکس لگانے پڑتے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں ڈی پی ٹی سسٹم کے نفاذ میں تیزی لانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ایف بی آر کے مطابق ٹوبیکو سیکٹر کی پیداوار اور سیل کو ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم سے مانیٹر کیا جائے گا ۔ مختلف علاقوں میں قائم سگریٹ کارخانوں کی سخت نگرانی ہو گی ۔ چینی کے شعبے میں پیداوار کی انڈر رپورٹنگ ہو رہی تھی ۔ نگرانی بہتر بنانےسے شوگر سیکٹر سے ٹیکس ریونیو میں 39 ارب اضافہ ہوا۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں 15 لاکھ بیلز کی انڈر رپورٹنگ کا انکشاف ۔ اس شعبے کی بھی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ مؤثر بنا کر سیلز ٹیکس ریونیو کو جی ڈی پی کے 5 فیصد کے مساوی تک لے جایا جائے گا ۔ نئے مالی سال میں 14131ارب کے ٹیکس ہدف میں 389 ارب کےانفورسمنٹ اقدامات شامل ہیں ۔ جبکہ 312 ارب روپے کے اضافی ٹیکس تجویز کئے گئے ہیں۔






















