الیکشن کمیشن نے این اے 251 میں ٹریبونل کے دوبارہ گنتی کے فیصلے پر حکم امتناع دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ زبانی حکم پر بغیر کسی دستاویزی ثبوت کے حکم امتناع نہیں دیا جا سکتا۔
الیکشن کمیشن میں قومی اسمبلی کے حلقہ 251 سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے سماعت کی۔ جے یو آئی کے امیدوار سید سمیع اللہ نے دوبارہ گنتی روکنے کی استدعا کی۔
وکیل جے یو آئی کا مؤقف تھا کہ مخالف امیدوار خوشحال کاکڑ نے دوبارہ گنتی کی درخواست واپس لے لی تھی۔ الیکشن ٹریبونل نے ازخود دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے سوال اٹھایا کہ دوبارہ گنتی کا کوئی تحریری حکم موجود ہے؟۔وکیل نے جواب دیا کہ ٹریبونل نے زبانی حکم جاری کیا ہے۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ زبانی حکم پر بغیر کسی دستاویز کے حکم امتناع کیسے دیا جا سکتا ہے؟الیکشن کمیشن نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانونی بنیاد کے بغیر حکم امتناع جاری نہیں کیا جا سکتا۔
ممبر کے پی اکرام اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر ٹریبونل کے پاس اختیارات ہیں تو وہ استعمال بھی کیے جا سکتے ہیں۔الیکشن کمیشن نے جے یو آئی امیدوار کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے ایک دن کی مہلت دی اور کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کر دی۔






















