الیکشن کمیشن نے نااہلی ریفرنس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی مہلت کی استدعا منظور کرلی۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے عمر ایوب کے خلاف نااہلی ریفرنس کی سماعت کی، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب الیکشن کمیشن میں پیش ہوگئے اور وکیل کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی۔
عمر ایوب نے کمیشن کو بتایا کہ بجٹ بھی آرہا ہے،درخواست ہے سماعت 27 جون کے بعد رکھیں، ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ آپ کا ایک وکیل یہاں الیکشن کمیشن میں پیش ہوتا ہے، جس پر عمر ایوب نے کہا کہ وہ وکیل میرے دوسرے کیس میں پیش ہورہے ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قانون کا مطابق 90 دن میں ریفرنس کا فیصلہ کرنا ہے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہمارے پاس فیصلہ کرنے کیلئےاگست تک کاوقت ہے، یہ درست ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا بجٹ میں اہم کردار ہوتا ہے،بعد ازاں الیکشن کمیشن نے نااہلی ریفرنس کی سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی۔
الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ میرے خلاف یہ ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس آیا تھا، اسپیکر نے اپنے دماغ استعمال کیے بغیر الیکشن کمیشن کو بھیج دیا، اس ریفرنس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کوئی مشاورت نہیں کی۔
عمر ایوب نے کہا کہ میرا مخالف پہلے ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ میں بھی جاچکا ہے، ہائیکورٹ ایبٹ آباد بینچ سے بھی یہ ریفرنس خارج ہوچکا ہے، آج میں نے الیکشن کمیشن کو کہا بجٹ کا مہینہ ہے وقت دیا جائے۔






















