وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔ پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
تاجکستان میں گلیشئرز کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامناہے، گلیشیئرز کا تحفظ ہمارے لیے بہت اہم ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات گلیشیئرز پر بھی ہورہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں 13ہزار گلیشیئرز ہیں، پاکستان کےپانی کانصف حصہ گلیشیئرز پر مشتمل ہے، ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، سیلاب سے فصلوں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کو سیلاب،طوفانی بارشوں کا سامنا کرنا پڑا۔
شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کا فضا میں زہریلی گیسز اخراج کا نصف فیصد سے بھی کم حصہ ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، ترقی یافتہ ملک ترقی پذیر ممالک میں ارلی وارننگ سسٹم میں سرمایہ کاری بڑھائیں، ترقی یافتہ ملک ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ذمہ داریاں پوری کریں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ایکوسسٹم بھی متاثرہورہا ہے، پاکستان ان10 ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہیں۔
قبل ازیں جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر دوشنبے پہنچے جہاں ائیرپورٹ پر تاجک وزیراعظم قاہر رسولزادہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ تاجک نائب وزیر خارجہ شریفزادہ فرخ حمدین بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
بعدازاں، وزیراعظم شہباز شریف نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی جس کے دوران صدر امام علی رحمان نے تاجکستان کے عالمی اقدامات کے نفاذ میں پاکستان کے تعاون کو سراہا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور دونوں ملکوں کی قیادت نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے بات چیت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔






















