خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اختیارات کے لئے سرگرم ہوگئے۔سزاؤں سے متعلق قانون میں ترمیم کا مسودہ تیار کرلیا گیا، کابینہ کو حاصل اختیار وزیراعلیٰ کو دے دیا جائے گا جو ایکٹ کے تحت کونسل سازی میں بااختیار ہونگے اور انہیں کسی کی منظوری لینا نہیں پڑے گی ۔
سزاؤں کے ایکٹ 2021 کے مسودے کے سیکشن 17 میں ترمیم تجویزکی گئی ہے، جس کے بعد اس ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے سینٹینسنگ کونسل کے چیئرمین اور ممبران کی تقرری کا اختیار وزیر اعلی کو حاصل ہوجائے گا ۔اس سے پہلے محکمہ قانون سمری کابینہ میں پیش کرکے اس کونسل چیئرپرسن اور ممبران کی منظوری لیتی تھی۔
ترمیمی مسودے کے مطابق وزیراعلیٰ سرکاری یا ریٹائرڈ سول ملازمین، پراسکیوٹرز، ججوں، وکلاءاور قانونی ماہرین کو کونسل کا رکن مقرر کر سکیں گے۔ سیکشن اٹھارہ میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت وزیراعلیٰ کونسل کے کسی ایک رکن کو چیئرپرسن مقرر کریں گے تاہم کوئی بھی رکن مسلسل دو سے زیادہ مدت کیلئے چیئرپرسن نہیں بن سکے گا اور کونسل کے روزمرہ انتظامات کیلئے ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی مقرر کیا جائے گا جو کونسل کے بنائے گئے ضوابط کے تحت کام کرے گا۔
سینٹینسنگ کونسل کی ذمہ داری عدالتوں اور وہاں سے سنائی جانے والی سزاوں پر نظر رکھنے ،اس کے عمل درآمد، مجرموں اور معاشرے پر پڑنے والے اثرات ،سزاوں کے بارے میں رائے عامہ میں آگہی اور اس حوالے سے تجاویز دینا شامل ہے۔
مجوزہ ترامیمی بل میں ملازمین کی حیثیت بھی واضح کردی گئی ہے، ایکٹ کے سیکشن 20 میں ترمیم کی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد کونسل کے ملازمین کو سول سرونٹس قرار دیا جائے گا جن کی تقرری خیبر پختونخوا سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ترامیم کا مقصد کچھ مبہم دفعات کو واضح کرنا اور کونسل کے انتظامی معاملات کو بہتر بنانا ہے جبکہ وزیراعلیٰ کو اختیارات دینے سے تقرریوں کے عمل میں تیزی آئے گی۔ ترمیمی بل آج خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جو کہ ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔






















