پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر سائبر ہراسمنٹ خصوصاً امیج بیسڈ ایبیوز کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی ہیلپ لائن نے سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، رپورٹ میں پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی بنیادوں پر تشدد کے بحران پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2016 میں آغاز سے لے کر اب تک ہیلپ لائن کو ملک بھر سے مجموعی طور پر 20,020 شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے صرف 2024 میں 3,171 شکایات درج کی گئیں۔
رپورٹ میں 2024 کے دوران ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی شکایات کا جامع تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جو ٹول فری نمبر (080039393)، ای میل اور ڈی آر ایف کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے موصول ہوئیں۔ اس میں ٹی ایف جی بی وی کے رجحانات اور پیٹرنز سے متعلق ڈیٹا، متاثر کن مداخلتوں کے گمنام کیس اسٹڈیز، ٹیک پلیٹ فارمز اور ریاستی حکام کے ساتھ ہیلپ لائن کی مشغولیت کی جھلک، اور پالیسی سازوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تفصیلی سفارشات شامل ہیں۔
گزشتہ سال ہر میں ہر ماہ اوسطاً 264 نئے کیسز موصول ہوئے، جو ہیلپ لائن کے لیے ایک مصروف سال رہا۔ شکایات کی اکثریت سائبر ہراسمنٹ سے متعلق تھیں (2,741)، جن میں سے صرف 36% (619) کیسز ان شہروں سے تھے جہاں ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ فعال ہے۔
رپورٹ کے مطابق کیسز کے بلحاظ علاقہ شرح دراز علاقوں اور چھوٹے شہروں میں رسائی کی نمایاں رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ چونکہ متاثرین کو انصاف کے حصول میں لاجسٹک، مالی اور ثقافتی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اس لیے مساوی انصاف کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ان رکاوٹوں کا حل نکالنا ضروری ہے۔
رپورٹ میں جغرافیائی ڈیٹا کے مزید تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ ہیلپ لائن نے 25 ممالک سے موصول ہونے والی درخواستوں پر کارروائی کی، جس سے دنیا بھر میں خواتین اور کمزور افراد کو اہم ڈیجیٹل سیکیورٹی سپورٹ فراہم کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین آن لائن ہراسمنٹ کا بنیادی ہدف بنی رہیں، جن میں 1,772 کیسز خواتین سے متعلق تھے۔ جنس کی بنیاد پر اقلیتیں جیسے کہ ٹرانس جینڈر افراد بھی شدید آن لائن بدسلوکی کا شکار رہیں۔
ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کو غیر رضامندانہ نجی تصاویر (این سی آئی آئی) اور امیج بیسڈ ایبیوز (آئی بی اے) کے ذریعے غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا، جس میں تمام این سی آئی آئی کیسز کا 85% اورآئی بی اے کیسز کا 81% خواتین کے خلاف تھے، جن کا مقصد انہیں مجبور کرنا، بلیک میل کرنا یا ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
رپورٹ پالیسی سازوں کو مشورہ دیتی ہے کہ پیکا قانون سازی اور اس کے نفاذ میں مستقل مزاجی اور وضاحت اپنائیں ٹی ایف جی بی وی سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل خواندگی کے اقدامات میں سرمایہ کاری کریں۔
خواتین کو انٹرنیٹ تک آزادانہ رسائی کے قابل بنانے کے لیے ڈیجیٹل صنفی فرق کو ختم کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے صنفی حساس تربیت کو نصاب کا حصہ بنائیں، شہریوں کی ڈیجیٹل سیکیورٹی اور پرائیویسی کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر ڈیٹا پروٹیکشن قوانین نافذ کریں۔






















