پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی نے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزامات کی بوچھاڑ کر دی، کہا سردار اختر مینگل نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے لک پاس پر دھرنا دے رکھا ہے۔
ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس سے علی مدد جتک، صادق عمرانی، فیصل جمالی، اسفند یار خان اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلزپارٹی رہنماؤں نے کہا کہ سردار اختر مینگل نے دھرنے کے دوران پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل عالمی قوتوں کے ایجنٹ ہیں اور سامراجی قوتوں کے اشارے پر صوبے کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختر مینگل اپنی زبان قابو میں رکھیں ورنہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ اختر مینگل دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ ان کی سرپرستی بھی کررہے ہیں انہوں نے کبھی سکیورٹی اہلکاروں یا معصوم مزدوروں کی ہلاکت کی مذمت نہیں کی، مزید کہا کہ ہم تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
صوبائی وزراءٖ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے پیپلز پارٹی سب کو ساتھ لے کر چل رہی ہے اور صوبے کی ترقی اور خوشحالی دینا چاہتی ہے لیکن جو بھی شخص قانون کو ہاتھ میں لے گا اور دہشتگردوں کی سرپرستی کرے گا آئین و قانون کی زد میں آئے گا۔






















