پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کی سخت مخالفت کے باوجود نئی نہروں کے منصوبے پر پنجاب کی پوزیشن مضبوط۔ ہے اور مسلم لیگ ( ن ) مشترکہ مفادات کونسل میں اکثریت کے باعث کینالز منصوبے کو تحفظ دینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل میں حکومتی جماعت مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت حاصل ہے اور اجلاس میں کثرت رائے سے فیصلہ ہوا تو سندھ حکومت کے لیے کامیابی ناممکن ہے۔
قواعد کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل میں فیصلے کثرت رائے کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور 8 رکنی کونسل میں مسلم لیگ ن کو 5 ارکان کے ساتھ واضح اکثریت حاصل ہے۔
کونسل چیئرمین وزیراعظم شہبازشریف اور 4 ممبران کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر سیفران امیر مقام اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز بھی کونسل میں شامل ہیں۔
کونسل کے دیگر ممبران میں سندھ ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ شامل ہیں اور اس وقت سی سی آئی میں کینالز منصوبے کا مخالف ووٹ صرف وزیراعلی سندھ کا ہے۔
ذرائع کے مطابق تنازعہ پر سندھ کو ابھی تک بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حمایت نہیں ملی اور بلوچستان اور خیبرپختونخوا نے کینالز کے سرٹیفکیٹ اجراء پر اعتراض نہیں کیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حمایت پر بھی پیپلز پارٹی کو 3 ووٹ حاصل ہوں گے اور مسلم لیگ ن اکثریت کے باعث کینالز منصوبے کو تحفظ دینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔