برطانوی اور امریکی میڈیا کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص اور معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت قائم کردہ ’ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی‘ (ڈی او جی ای) سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔
اس ادارے کی سربراہی مسک کو صدر ٹرمپ نے نومبر 2024 میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد سونپی تھی جس کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کے اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی لانا اور بیوروکریسی کو کم کرنا تھا۔
امریکی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی کابینہ اور قریبی ارکان کو مسک کے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور مسک کے درمیان طے پایا کہ مسک اب اپنے کاروباری مفادات پر توجہ مرکوز کریں گے جن میں ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس جیسے بڑے ادارے شامل ہیں۔
ایک امریکی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے کہا ایلون نے شاندار کام کیا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کی طرف لوٹ جائیں۔
برطانوی اخبار نے لکھا کہ مسک نے اپنے مختصر دور میں وفاقی ملازمین کی تعداد میں کمی اور غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات کیے جن میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں اور ’فورک ان دی روڈ‘ نامی رضاکارانہ استعفیٰ پروگرام شامل تھا۔
تاہم، ان اقدامات پر قانونی چیلنجز اور وفاقی ملازمین کے احتجاج نے ان کی کوششوں کو متنازع بنا دیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اب تک مسک کے عہدے سے دستبرداری کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔