غیرقانونی غیرملکیوں بالخصوص افغان باشندوں کی ملک بدری کے پلان کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا۔
افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو وطن واپس بھیجنے کے لئے تحویل میں لینے کا عمل شروع ہوگیا ہے اور اسلام آباد اور راولپنڈی میں خفیہ اطلاعات پر کارروائیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں 60 سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو اب افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔
پی او آر کارڈ ہولڈر افغان شہریوں کو 30 جون تک پاکستان میں رہنے کی مہلت دی گئی ہے۔
شہر اقتدار میں سیٹیزن کارڈ رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں ترنول، بھارہ کہو، غوری ٹاؤن اور میرآبادی میں کی گئیں جہاں 22 افغان باشندوں کو تحویل میں لیا گیا جبکہ راولپنڈی کی فوجی کالونی اور ملحقہ علاقوں سے 38 افراد کو گرفتار کیا گیا جنہیں پرانا حاجی کیمپ منتقل کر دیا گیا اور وہاں سے رجسٹریشن کے بعد انہیں لنڈی کوتل کیمپ لے جایا جائے گا۔
فارن ایکٹ کے تحت مختلف جیلوں میں بند افغان باشندوں کو بھی آج لنڈی کوتل پہنچانے کا پلان ہے۔
تمام افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو لنڈی کوتل کیمپ میں بائیومیٹرک کے بعد وطن واپس بھیجا جائے گا جبکہ سب سے زیادہ افغان باشندے خیبرپختونخوا میں مقیم ہیں۔