روزے رکھنا صحت کے لیے بے شمار فوائد کا باعث ہوتا ہے تاہم اس دوران کھانے پینے میں بے احتیاطی کسی طور مناسب نہیں۔ اگرچہ روزہ رکھنے کے وزن میں کمی کے ممکنہ فوائد ہیں لیکن اس دوران عام غذائی غلطیاں وزن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق روزے وزن کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں لیکن اس کا انحصار کھانے کے انتخاب اور خوراک کے حصے پر ہے۔
روزہ قدرتی طور پر کھانے کی مقدار کم کرتا ہے جو ممکنہ طور پر کیلوری کی کمی کا باعث بنتا ہے۔ تاہم وزن میں کمی صرف اس صورت میں ہوتی ہے جب کل کیلوریز کی مقدار توانائی کے استعمالات سے کم رہے۔
روزے کے پہلے 12-24 گھنٹوں میں جسم بنیادی طور پر توانائی کے لیے جگر اور عضلات سے ذخیرہ شدہ گلائکوجن (جسم کا ذخیرہ شدہ کاربوہائیڈریٹ) استعمال کرتا ہے۔ ایک بار جب گلائکوجن کے ذخیرے ختم ہو جاتے ہیں تو جسم توانائی کے لیے چربی توڑنا شروع کر دیتا ہے جہاں چربی ایندھن کا متبادل ذریعہ بن جاتی ہے۔
ضرورت سے زیادہ تلی ہوئی اشیا، مٹھائیوں اور بہتر کاربوہائیڈریٹ کا استعمال۔ مثلاً ایک سموسہ 120 کیلوریز فراہم کر سکتا ہے۔ ہم کم از کم 3 سموسے کھانے کا رجحان رکھتے ہیں جو کل 360 کیلوریز فراہم کرتے ہیں اور یہ ایک کھانے کی کیلوریز کے بہت قریب ہے۔
افطار کے وقت پرخوری سے بچنے اور رمضان کے دوران وزن کنٹرول کرنے کے لیے بہترین طریقہ ہے کہ بھوک کو کم کرنے اور نظامِ ہاضمہ کو تیار کرنے کے لیے پانی، سوپ، یا لبن (دہی کی لسی) کے ساتھ ساتھ فائبر سے بھرپور غذا سے شروع کریں۔
اہم کھانا شروع کرنے سے پہلے 15 منٹ کا وقفہ لینے سے پرخوری سے بچا جا سکتا ہے۔ چھوٹی پلیٹوں کا استعمال حصے کو کنٹرول کرنے اور پرخوری کا امکان کم کرنے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔
روایتی پکوانوں کا انتخاب کرتے وقت تلی ہوئی چیزوں کے بجائے گرل یا بیک شدہ کا انتخاب کرنے سے کیلوریز کی مقدار میں نمایاں طور پر کمی آ سکتی ہے جبکہ آپ بدستور پسندیدہ اور مانوس ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
آخر میں آہستگی اور حاضر دماغی سے کھانے سے جلد پیٹ بھرنے کا احساس ہونے میں مدد ملتی ہے اور اضافی خوراک کے استعمال کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ہاضمے کو سست کرنے اور بلڈ شوگر کو مستحکم کرنے کے لیے فائبر سے بھرپور سبزیاں شامل کریں۔ ریفائن کاربوہائیڈریٹ کی بجائے سالم اناج (بھورے چاول، پوری گندم کی روٹی) کا انتخاب کریں۔
ضرورت سے زیادہ کھائے بغیر میٹھے کی خواہش پوری کرنے کے لیے قدرتی میٹھے مثلاً کھجور، پھل یا شہد کے ساتھ دہی کا انتخاب کرنا بہتر ہے جو چینی کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے غذائی اجزا اور فائبر فراہم کرتے ہیں۔
روایتی میٹھے کو بیک یا گرل کی صورت میں استعمال کرنے سے اضافی چربی اور کیلوریز کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صحت مند متبادل مثلاً کھجور کے ساتھ جئی یا چیا پڈنگ بھی بہترین متبادل ہو سکتے ہیں۔ البتہ ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے۔
ایک متوازن انداز میں افطار، افطار کے بعد کا کھانا، سحری اور کچھ نمکین ہلکے پھلکے کھانے شامل ہیں۔ ہلکی اور غذائیت سے بھرپور غذاؤں سے افطار کریں۔ افطار کے بعد پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی کے ساتھ رات کا متوازن کھانا کھائیں۔
سحری میں کاربوہائیڈریٹ، پروٹین اور ہائیڈریشن کے ساتھ آہستگی سے ہضم ہونے والا کھانا کھایا جائے۔ اگر ضرورت ہو تو سنیکس کو شامل کیا جا سکتا ہے جن میں زیادہ تر گری دار میوے، دہی یا پھل ہوں۔
ضرورت سے زیادہ کھانے سے بچنے کے لیے پانی، سوپ اور فائبر سے بھرپور غذا مثلاً سلاد سے شروع کریں۔ کھجور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن اس میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے ایک سے 3 کھجوروں تک محدود رہیں۔
تھکن سے بچنے کے لیے افطار سے پہلے کم شدت والی ورزش (چہل قدمی، یوگا) بہترین ہے۔ طاقت بخش یا اعتدال پسند ورزش افطار کے ایک سے 2 گھنٹے بعد بہترین ہے جب توانائی کی سطح زیادہ ہو۔ پانی کا مناسب استعمال کلیدی ہے۔ اگر پانی کی کمی ایک تشویش ہے تو شدید ورزش سے بچیں۔
ہاضمے، غذا کے جزوِ بدن بننے اور بھوک کو کنٹرول کرنے کے لیے پانی ضروری ہے۔ پانی کی کمی تھکن، خواہشات اور سست میٹابولزم کا باعث بن سکتی ہے۔ افطار اور سحری کے درمیان 8 سے 10 گلاس پینے کا مقصد رکھیں۔ منہ میں پانی لانے والے پھلوں جیسے بیر اور تربوز پر توجہ دی جائے۔
کھانے کے حصے پر قابو رکھنے اور حاضر دماغی سے کھانے کی مشق جاری رکھی جائے۔ پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی کے ساتھ متوازن غذا برقرار اور ہائیڈریشن اور جسمانی سرگرمی کی عادات برقرار رکھی جائیں۔
مقدار سے زیادہ معیار پر توجہ مرکوز کریں- مکمل، غذائیت سے بھرپور غذاؤں کا انتخاب کریں، پانی پیتے رہیں اور طویل المیعاد عادات کو رمضان کے بعد پائیدار بنانے کے لیے سمجھداری سے کھائیں پییں۔