وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت نے آئندہ بجٹ میں طبی آلات، ادویات کے خام مال، چائے اور موٹرسائیکلز کے پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ٹیرف تجاویز وزارت تجارت کو بھیج دی گئیں۔ کاغذ اور گتے پر کسٹم ڈیوٹی برقرار رکھنے جبکہ پرنٹڈ مٹیریل پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت کی ہدایت پرمالی سال 26-2025 کے لیے بجٹ تجاویز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت نے آئندہ بجٹ کے لیے ٹیرف تجاویز وزارت تجارت کو بھجوا دیں۔
ایف پی سی سی آئی نے چائے کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے جبکہ طبی آلات اور ادویہ سازی کے لیے خام مال کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کرکے 5 یا 6 فیصد کرنے اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی صفر کرنے کی سفارش کردی۔ صدر وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت عاطف اکرام شیخ کا کہنا ہے کہ خام مال پردرآمدی ڈیوٹی کم کرنے سے ادویات کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
ایف پی سی سی آئی کی جانب سے موٹر سائیکل کے پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی 35 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسپیئر پارٹس کی قیمتوں میں کمی سے حکومتی ریونیو میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
کاغذ اور پیپر بورڈ پر کسٹم ڈیوٹی 10 فیصد برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی تاہم ریٹیل ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ایف پی سی سی آئی نے پرنٹڈ میٹریل کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 3 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی سفارش کی ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کے مطابق ہر سال 4 ارب روپے کا پرنٹڈ میٹریل درآمد کیا جاتا ہے جو مقامی سطح پر تیار ہوسکتا ہے۔
ایوان صنعت و تجارت نے 5سال پرانی تعمیراتی مشینری کی درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے اور 10 سال تک پرانی تعمیراتی مشینری درآمد کرنے کی اجازت دینے کی بھی تجویز دی ہے۔