نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں جعلی ای میلز کے ذریعے سائبر حملوں کا انکشاف کیا گیا ہےشہریوں کی شناخت کی چوری، مالی دھوکہ دہی اور لاگ ان اسناد کی چوری ہو رہی ہیں، اور اس کے لیے فشنگ مہم کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی جانب سے جاری کر دہ ایڈوائزری کے مطابق کمشنر پولیس آفس کے نام سے شہریوں کو جعلی ای میلز بھیجی جا رہی ہیں جب کہ پاکستان میں کمشنر پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نام سے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔
ایڈوائزری کے ذریعے خبردار کیا گیا ہے کہ یہ جعلی ای میلز شہریوں پر سائبر کرائمز میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتی ہیں اور انہیں خوف میں مبتلا کرکے ذاتی اور مالی معلومات افشا کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق ان ای میلز میں شہریوں کو چوبیس گھنٹے کے اندر جواب دینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، ساتھ ہی قانونی کارروائی، گرفتاری، میڈیا میں بدنامی اور بلیک لسٹ ہونے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔
جعلی ای میلز میں پی او سی ایس او ایکٹ اور آئی ٹی ایکٹ کی سٹرسٹھ اے اور سٹرسٹھ بی دفعات کا حوالہ دیا جاتا ہے حالانکہ پاکستان کے قوانین میں یہ دفعات شامل نہیں ہیں۔ ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ نادانستہ طور پر ان ای میلز کا جواب دینے سے شہری ہیکرز کو حساس معلومات فراہم کر دیتے ہیں۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مشکوک ای میلز کا جواب دینے سے پہلے ان کی تصدیق ضرور کریں اس کے علاوہ سائبر حملوں سے بچنے کے لیے ملٹی فیکٹر فیکٹرآتھنٹیکیشن کو فعال کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔