خیبرپختونخوا حکومت کے وفد کے دورہ افغانستان کے لئے ٹی او آرز تیارکرلیےگئے۔ خیبر پختونخوا حکومت مذاکرات کےلئے وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔
بیرسٹرمحمد علی سیف رابطہ کاری کے لئے فوکل پرسن مقرر کردیے گئے۔ افغانستان دو وفود جائیں گے۔ پہلا وفد مذاکرات کےلئے ماحول سازگار بنائےگا، ابتدائی بات چیت میں بارڈر ایریا کےقبائلی زعماء شامل ہوں گے، دوسرا وفد کئی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وفد بھیجنے کا مقصد کراس بارڈر ٹرائبل ڈپلومیسی مضبوط کرنا ہے، ٹرائیبل کمیونٹیز اور حکومت کے درمیان اعتماد سازی بحال کرنا ہے، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے حوالے سے قبائلی مشران کی خدمات لینا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال میں قومی اتحاد واتفاق کی اشد ضرورت ہے، خیبر پختونخوا کو امن و امان کے حوالے سے بہت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماضی میں بہت کوششیں کی گئیں لیکن ان کے حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آئے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہاں حالات کو خراب کرنے میں بیرونی سازشوں کا عمل دخل ہے، ہمارے صوبے میں امن و امان پڑوسی ملک افغانستان کی صورتحال سے جڑا ہے، دہشتگردی کےمستقل بنیادوں پرحل کرنے کے لئے افغانستان کے ساتھ حکومتی سطح پر مذاکرات کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے ساتھ بامقصداور نتیجہ خیزمذاکرات کے لئے جرگہ تشکیل دیا جائے گا۔