امریکا نے بھارت کو جدید ایف 35 جنگی طیاروں سمیت کئی ارب ڈالرکا فوجی سامان دینے کا اعلان کردیا۔
واشنگٹن میں امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات میں خسارہ کم کرنے، تجارتی حجم دگنا کرنے اوردفاعی تعاون بڑھانے پراتفاق کیا گیا۔ امریکا نے بھارت کو تیل اورگیس فراہمی کی بھی پیشکش کی۔ امریکی صدرکا کہنا تھا بھارت کیساتھ سو ارب ڈالرزکی تجارت تک جانا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مودی بھارت میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ بھارت کو ایف تھرٹی فائیو سمیت کئی ارب ڈالر کا فوجی سامان دیں گے ساتھ ہی تیل اور گیس بھی فراہم کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے بھارت سے سو ارب ڈالر تجارتی خسارے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر بھی جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی صدرکا کہنا تھا کہ توانائی، بجلی، اے آئی سمیت متعدد شعبوں میں بھارت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ بھارت نے سترفیصد تک ٹیرف لگایا ہوا ہے۔ بھارت جو ٹیرف لگائے گا وہ ہم بھی لگائیں گے۔
بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیاکی سب سے پرانی اوربڑی جمہوریت کا تعاون اہم ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے پر بھارت کی طرف سے مبارک باد دیتا ہوں، خوشی ہے کہ دوبارہ ٹرمپ کے ساتھ کام کا موقع مل رہا ہے۔ نریندرمودی نے امریکی صدر کودورہ بھارت کی دعوت بھی دی۔
امریکی صدرٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور بھارت کےدرمیان بہترین تعلقات ہیں، ملٹری کے سازوسامان میں مزیداضافہ کریں گے، نیوکلیئرتوانائی کےحوالےسےبھی اہم تعلقات ہیں، بھارت ہمارے دوست ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔
نیوزکانفرنس کے دوران روس یوکرین جنگ کا بھی ذکر ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پیوٹن اورزیلنسکی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ چین یوکرین جنگ ختم کرنے میں ہمیں مدد کرسکتا ہے۔ روس کا مطالبہ ہے یوکرین کونیٹو کا حصہ نہیں ہوناچاہیے تووہ نہیں ہوگا، یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں ہوگ اٹرمپ یہ وعدہ پوراکررہاہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ 200 ملین ڈالرز یوکرین کو جارہے ہیں اور یورپی ممالک ویسانہیں کررہے، مذاکرات میں یورپی یونین اورنیٹوممالک کوکہاوہ مزید پیسے خرچ کریں۔