افواج پاکستان میں مرد و خواتین اپنی ہمت و شجاعت سے وطن عزیز کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔
انسانیت کی خدمت اور جذبہ حب الوطنی کی عظیم مثال فلائٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر ماہ نور فرزند کی ہے، ڈاکٹر ماہ نور فرزند نے 23 اگست 2021 کو کرونا وائرس سے لڑتے ہوئے شہادت کا عظیم رتبہ پایا۔
فلائٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر ماہ نور فرزند شہید کے والد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرماہ نور شہید نے آرمی پبلک اسکول ملیر کینٹ سے ایف ایس سی کرنے کے بعد ڈینٹل سرجری میں گریجویشن مکمل کی، گریجویشن کے بعد ماہ نور نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے صرف دو ڈینٹل ڈاکٹرز منتخب کیے گئے، جن میں سے ایک ماہ نور تھی، کووڈ کے دوران ماہ نور نے بھرپور جذبے اور جانفشانی سے مریضوں کا علاج کیا، مریضوں کا علاج کرتے ہوئے خود کووڈ سے متاثر ہوئی، اللہ نے اسے شہادت کا درجہ عطا کیا۔
شہید کے والد نے کہا کہ ماہ نور بہت خوبصورت شخصیت کی مالک تھی اور میری اس سے بے حد قربت تھی، جب بچوں نے ایئر فورس جوائن کی، تو میں پہلے دن سے ذہنی طور پر ان کی شہادت کی خبر کے لیے تیار تھا۔ آج ہم اپنی شہید بیٹی کی بدولت پہچانے جاتے ہیں، جس پر ہمیں بے حد فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہ نور بچپن سے ہی بہت ذہین اور اچھے اخلاق کی مالک تھی، ماہ نور نے ہر رشتہ بہت احسن طریقے سے نبھایا۔ ملیر کینٹ میں ماہ نور شہید کی یاد میں ایک پارک کو "ماہ نور شہید پارک" کا نام دیا گیا۔ اسے شہادت کا بہت شوق تھا اور وہ اکثر اپنے بھائی سے کہتی تھی، "دیکھتے ہیں، پرچم میں لپٹ کر پہلے کون آتا ہے۔
فلائٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر ماہ نور فرزند شہید کی والدہ نے کہا کہ کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرتا جس میں ماہ نور مجھے یاد نہ آتی ہو، شہید کی بھائی نے کہا کہ پڑھائی میں بہت ہونہار تھی، بہن ہونے کے ساتھ ماہ نور میری بہت اچھی دوست تھی۔ زندگی کے ہر پہلو میں وہ میری رہنمائی اور سربراہی کرتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس جذبے اور لگن سے اس نے ملک کی خدمت کی اور آخری دن تک اپنی ڈیوٹی نبھائی، ہمیں بھی وہی جذبہ اپنانا ہے، نیول اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد ماہ نور اکثر کہتی تھی، "دیکھتے ہیں، سبز ہلالی پرچم میں کون پہلے لپٹ کر آتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ انہوں نے اپنی بات کی لاج رکھی؛ وہ سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آئیں۔
فلائٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر ماہ نور فرزند شہید کی بھائی نے کہا کہ تمام فورسز کے جوانوں کے لیے پیغام ہے کہ ملک کی حفاظت اور سالمیت کے لیے آخری دم تک دشمنوں کا مقابلہ کریں۔
شہید کی بہن نے کہا کہ بہن کے حوصلے، انسانیت کی خدمت کے جذبے اور ہمت سے میں بہت متاثر ہوں، جس طرح انہوں نے لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے اپنی زندگی قربان کی، میں ان کے نقش قدم پر چلوں گی۔ ہمیں دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانی چاہیے اور ملک کی خدمت کرنی چاہیے تاکہ ہمارا ملک آگے بڑھ سکے۔
ڈاکٹر ماہ نور فرزند کو بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈل سے نوازا گیا تھا، جذبہ خدمت اور غیر متزلزل حوصلے سے لوگوں کی مدد کرنے والی ڈاکٹر ماہ نور فرزند ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔





















