لوئرکُرم کےعلاقوں میں شرپسندوں کے خلاف کارروائیاں تیسرے روزبھی جاری ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے دستے موجود ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق بگن، پستہ ونی اور ملحقہ علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں سے کارروائی کی جارہی ہے۔ بگن ڈاڈ قمراورملحقہ قریبی پہاڑوں میں بھی دہشت گردوں کےٹھکانوں کونشانہ بنایا گیا۔ وسطی کُرم کے علاقہ زاڑانہ میں بھی ٹکھانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
رکن صوبائی اسمبلی علی ہادی عرفانی کا کہنا ہے کہ پشاور کرم شاہراہ بدستور تین ماہ سے بند ہونے سے ادویات اوراشیائے خوردونوش کی قلت ہے۔ راستوں کی بندش سے کاروبار زندگی بری طرح مفلوج ہوکررہ گیا۔ لوگ علاج و خوراک نہ ملنے سے دم توڑ رہے ہیں۔
علی ہادی عرفانی نے کہا کہ ہیلی کاپٹرسروس سے ادویات پہنچانے اور مریض شفٹ کرنے سے کسی حد تک قابوپایاگیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہیلی کاپٹر سروس جاری رکھی جائے اور راستے کھول کرمحفوظ بنائے جائیں۔






















