روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ شام میں روس کو شکست نہیں ہوئی اور ہم نے وہاں اپنے مقاصد حاصل کرلیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سال کے آخر میں اپنی سالانہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے پہلی بار بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی صورتحال پر گفتگو کی اور اس دعوے کو مسترد کیا کہ شام میں روس کو شکست ہوئی۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا کہنا تھا کہ آپ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے روس کی شکست کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے اور ہم نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔
پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس نے الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد 4000 ایرانی فائٹرز کو بھی شام سے نکالا۔
انہوں نے کہ ہم ان تمام گروپوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہیں جو شام کی صورتحال کو کنٹرول کرتے ہیں۔
بشارالاسد سے ملاقات کے بارے بات کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ وہ ابھی تک ان سے نہیں ملے لیکن ان سے ضرور بات کریں گے اور ماسکو میں ان سے ملنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔
یاد رہے کہ شامی باغیوں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد سابق صدر بشارالاسد روس فرار ہوگئے تھے۔