پاکستان کا میزائل پروگرام پاکستان کی سلامتی کا ضامن ہے مگر صہونیوں کی اندرونی اور بیرونی سہولت کاروں کے ساتھ ملکر پاکستان مخالف بڑی سازش سامنے آگئی۔
عرصہ دراز سے صہینیوں کی خواہش رہی ہے کے پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں کو نقصان پہنچایا جائے، یہی امریکہ کی پالیسی ہے۔ جسکو اندرونی طور پر عمران نیازی اور اس کی پارٹی تحریک انصاف، ٹی ٹی پی، بی ایل اے عملی جامہ پہنانے کے لئے مختلف محاذوں پر اپنے اپنے طریقہ سے سرگرم ہیں۔
گولڈ سمتھ مذکورہ پاکستان مخالف منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں، گولڈ سمتھ اور صہونی طاقتوں کی ایماء پر عمران نیازی اور اسکے ملک کے اندر اور باہر بیٹھے ہرکارے ہر وقت ملک دشمن بیانیہ بیچنے میں لگے ہوئے ہیں، کبھی غیر ملکی میڈیا میں آرٹیکل، کبھی بیرون ملک پاکستان مخالف مظاہرے، کبھی امریکیوں سے بھیک مانگ کر ٹویٹس کروانا، کبھی ملکی مصنوعات کا بائیکاٹ، کبھی وفاق پر حملہ کبھی سول نا فرمانی کی تحریک اور پاکستانیوں کو ترسیلاتِ زر نا بھیجنے کی تلقین، غرض یہ کے اپنے چھوٹے مقاصد کے حصول کے لئے وہ پورا ملک برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اب پاکستان کی سلامتی پر اس حملہ پر بھی خوش ہیں اور امریکہ کو بڑھاوا دے رہے ہیں کے وہ اس طرح کی پابندیاں ضرور لگائے۔
دوسری طرف وائس اف امریکہ، ڈیوا، ریڈیو مشال جہاں اس ایجنڈا کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک باریک طریقہ سے سہولتکاری کرتے ہیں، عادل راجہ، عمران ریاض، صدیق جان، معید پیرزادہ، زلمے خلیل زاد وغیرہ بے حیائی اور کھل عام جھوٹ کا سہارا لیتے ہوۓ اپنا گھٹیا کردار ادا کرتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کمیشن جیسے ادارے ان کی ڈھال بن کر، ان کو ہمدردی کے لبادہ میں اوڑھ کر، ان کی حفاظت کرتے ہیں۔
عالمی طاقتوں کا بنایا ہوا، پیسہ، زبان اور گولہ بارود سے چلنے والا یہ ایک انوکھا اور خطرناک جدید ترین ہتھیار ہے جس کو ازادی، مذہب، فرقہ واریت، نسلی تفریق یا لسانیت کے نام پر نوجوانوں کے ہاتھوں میں تھما کر ریاست کو مارنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ریاست کی معیشت اور ملکی سلامتی کے اداروں کا گلا گھونٹ کر اس کے کارامد ہونے کے لئے موثر فضا قائم کی جا رہی ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں، ایک حقیقت ہے۔ اس کو جتنا جلدی تسلیم کر کے اس کا توڑ نکالا جاۓ، اتنا ہی بہتر ہے ورنہ شام، لبیا، عراق کے حال پر پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔






















