سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا مگر پاکستان کے لیے گلوبل فنڈ کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہوا۔
اسلام آباد میں پوسٹ کاپ ٹوینٹی نائن ڈائیلاگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئیرترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے کلائمیٹ فنانس اور ماحولیاتی چیلنجز پر اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے کلائمیٹ فنانس پر کام کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا اگر ایسا نہ کیا گیا تو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بڑا فرق پیدا ہوجائے گا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آئینی عدالتیں ماحولیاتی معاملات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ملک کو شدید ترین موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کا سامنا ہے اور پاکستانی جج کو کلائمیٹ چینج کے ساتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سمیت کئی پہلوؤں کو دیکھنا ہوتا ہے۔ سی ڈی اے کیس میں بھی کہا گیا تھا کہ پلاننگ کو ماحول دوست بنایا جانا چاہیے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کلائمیٹ فنانسنگ کو انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈز پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز سے حاصل کیے جا سکتے ہیں کیونکہ کلائمیٹ فنانس ہی نیا کلائمیٹ جسٹس ہے۔
انہوں نے ماضی میں پاکستان میں بدترین سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کلائمیٹ فنانس پر کام نہ کیا گیا تو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بڑا فرق پیدا ہوگا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ کلائمیٹ فنانس کے فنڈز کہاں جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ سائنس پر پاکستان کی گرفت کمزور ہے اور پاکستان کے لیے کیے گئے سو ارب ڈالر کے وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے۔جبکہ ملک کو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں لیکن ہمیں کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔