سولہ دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والا دہشت گرد حملہ پوری قوم کے لیے ایک المناک، دردناک اور اذیت ناک واقعہ تھا۔ اس حملے کے دوران 12 سے 18 سال کی عمر کے 134 طلباء کو بے رحمی سے شہید کر دیا گیا۔
شہداء میں اسکول کے کچھ اساتذہ اور پرنسپل بھی شامل تھے۔ یہ گھناؤنا جرم فتنہ خوارج نے انجام دیا، جس کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت دشمن خفیہ ایجنسیوں کے اشارے پر کی گئی۔
سولہ دسمبر 2024 اس المناک واقعے کی 10ویں برسی ہے، جو ملک بھر میں شہداء، ان کے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور دہشت گردی کے ناسور کے خلاف قوم کے عزم و استقامت کو اجاگر کرنے کے لیے منائی جا رہی ہے۔
اے پی ایس کے شہداء کو خراجِ تحسین
پاکستانی عوام "اے پی ایس کے شہداء" کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس ہولناک واقعے کا غم اور درد کبھی کم نہیں ہوسکتا، لیکن بحیثیت قوم ہم پختہ عزم کرتے ہیں کہ خوارجی دہشت گردوں اور ان کے غیر ملکی آقاؤں کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
پاکستانی قوم اس وحشیانہ واقعے کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور دہشت گردی کے ناسور کے خلاف متحد کھڑی رہے گی۔
ریاست اپنی پوری طاقت کے ساتھ انتشار اور تباہی کے ایجنٹوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
دہشت گردی کے خلاف عزم اور پختگی کا اظہار
پاکستانی عوام اور مسلح افواج/ قانون نافذ کرنے والے ادارے آج کے دن دہشت گردی کے ناسور کے خلاف اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ انشاء اللہ خوارجی فتنے کو ریاست کی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ مٹایا جائے گا ۔
ریاست دہشت گردی کے خلاف "زیرو ٹالرنس" کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کسی بھی قیمت پر بغیر کسی امتیاز کے اس کا خاتمہ کرے گی۔
پاکستان دہشت گردی کو کسی بھی شکل اور صورت میں مسترد کرتا ہے۔ اے پی ایس کے سانحے کے بعد پوری قوم نے اپنے نمائندوں کے ذریعے "نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا، جسے مکمل عزم کے ساتھ نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ ابھی اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا، لیکن حکومت پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
خوارجی فتنہ انسانیت کا دشمن
خوارجی فتنہ ایک لعنت ہے جو زمین پر فساد پھیلاتا ہے۔
فتنہ خوارج اسلام کے نام کا غلط استعمال کرتے ہیں، اس کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے تشدد اور نفرت کو جائز قرار دیتے ہیں، اور اپنے غیر انسانی، غیر اسلامی اور بے رحمانہ اعمال کی وجہ سے اسلام کے تشخص کو داغدار کرتے ہیں۔
یہ دہشت گرد وحشی درندے ہیں جنہیں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو قتل کرنے میں کوئی پچھتاوا نہیں ہوتا، جو اسلام کے آفاقی پیغام اور اس کے مقدس احکامات کی بنیادی اور غلط تشریح کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستانی اور عالمی سطح پر مذہبی اسکالرز نے فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ دہشت گردی اور مسلح جدوجہد کو "حرام" قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ پیغامِ پاکستان فتویٰ میں نمایاں طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
اے پی ایس حملے کا ماسٹر مائنڈ فضل اللہ تھا، جبکہ دیگر ساتھیوں میں گل زمان اورکزئی، عمر نرائی اور محمد خراسانی شامل تھے۔ یہ افراد حملے کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے کے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔
فتنہ خوارج اور دشمن خفیہ ایجنسیوں کا گٹھ جوڑ
فتنہ خوارج نے اے پی ایس حملہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر کیا۔ حملہ آور افغانستان میں موجود بھارتی خفیہ ایجنسی (را) اور این ڈی ایس کے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے شناخت کر کے بیشتر کو ختم کر دیا ہے۔
خوارجی ہمیشہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کی مدد سے پروان چڑھے ہیں۔ 2020 میں، بھارتی خفیہ ایجنسی نے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند دھڑوں کے انضمام کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت کی۔
بھارت نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں اور شدت پسندوں کو افغانستان اور ایران میں موجود اپنے ہینڈلرز کے ذریعے مالی امداد فراہم کی ہے۔
پاکستان نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو بار بار شواہد اور ڈوزیئر فراہم کیے ہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج عوام کی حمایت کے ساتھ قوم کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور ان شاء اللہ، پاکستان سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کر کے دم لے گی۔ حالیہ ریاستی اقدامات اس سمت کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔






















