سینیٹرعرفان صدیقی نے قائمہ کمیٹی اجلاس کےبعد صحافیوں سےملاقات کی جس دوران ان کیمرہ بریفنگ سے متعلق صحافیوں کو آگاہ کیا ، عرفان صدیقی کا کہناتھا کہ دفترخارجہ کی ایک تفصیلی میٹنگ ہوئی ہے، ویزا کے معاملہ، واٹر ٹریٹی ان کیمرہ ڈسکس ہوا ہے، کمیٹی نےشام میں موجود پاکستانیوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عرفان صدیقی کا کہناتھا کہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم متعلقہ حکام سےرابطےمیں ہیں موثراندازمیں کام کر رہےہیں، 260 افراد مذہبی زیارات کے لیے وہاں گئے ہوئے تھے، 80 افراد کوکل وہ بارڈر پر لے کر آئے ہیں انہیں لبنان بھیج دیا گیا ہے، لبنان موقع پرہی ان زائرین کوویزے دے رہا ہے170 آج بارڈرلائن پر پہنچ چکےہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کال کےبعد لبنان میں تمام پاکستانیوں کو جلد وطن پہنچانےکی کوشش کی جا رہی ہے، دینی مدارس میں 60 سے زائد طلبہ پھنسے ہوئے ہیں، 750 خاندان برسوں سےشام میں رہ رہے ہیں اوروہاں کاروبار کر رہے ہیں، ان خاندانوں کے تقریباً 1300 فیملی ممبر وہاں ہیں 2 ہزار سے زائد پاکستانی اس وقت شام میں ہیں۔
عرفان صدیقی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس دوران انہوں نے کہا کہ لبنان سےانہیں بیروت تک بھیجا جا رہا ہےوہاں سے بذریعہ طیارہ لایا جائےگا، پی آئی اےکےاپنےمسائل ہیں اس لیے کسی دوسری ایئرلائن کا انتظام کیا جا رہا ہے، شام کی صورتحال کوئی خاص اچھی نہیں ہےکمیٹی نےشام کی صورتحال پراظہارتشویش کیا، اگراسرائیل اپنےقدم بڑھانےکی کوشش کرتا ہےاورعالمی برداری اسےبرداشت کرلیتی ہےتویہ زیادتی ہوگی، واٹر ٹریٹی کے معاملے پر متعلقہ ادارے جواب دے رہے ہیں۔