سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے زیر حراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی لطیف کھوسہ کی استدعا مسترد کردی۔
نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کیس کی سماعت وزارت دفاع کے وکیل کی علالت کے باعث جمعرات تک ملتوی کردی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت شروع کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آج کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کردی ۔ مؤقف اپنایا کہ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث بیمار ہیں۔ اس لئے عدالت نہیں آ سکے۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
آئینی بینچ نے زیرحراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی لطیف کھوسہ کی استدعا مسترد کر دی۔ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد کو عام جیلوں میں بھیجنے سے ان سے کم از کم ملاقات تو ہوسکتی ہے۔ جس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ ملاقات کے حوالے سے اٹارنی جنرل یقین دہانی کرا چکے ہیں۔مقدمہ سن رہے ہیں فی الحال کسی اور طرف نہ جائیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں کو مقدمات کا فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد اور چھبیسویں ترمیم کے فیصلے تک سماعت مؤخرکرنے کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کردی ہے۔
درخواستگزار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی طرف سے چھبیسویں آئینی ترمیم کے فیصلے تک سماعت مؤخرکرنے کی استدعا کی گئی ۔ موقف اختیار کیا کہ آئینی ترمیم کالعدم ہوئی تو فیصلے بھی ختم ہوجائیں گے۔
جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دئیے آپ کا کوئی پیارا زیرحراست نہیں اس لیے تاخیر چاہتے ہیں ۔ اگر عدالت کا دائرہ اختیار تسلیم نہیں کرتے تو یہاں سے چلے جائیں ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے عدالتی فیصلوں کوہمیشہ ہی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ یہاں
ہرسماعت پر ایسی ہی درخواستیں دائر کی جاتی ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے جو بھی بینچ بن رہے ہیں وہ نئی ترمیم کے تحت ہی بن رہے ہیں ۔ آئینی ترمیم کا مقدمہ بھی ترمیم کے تحت بننے والا بینچ ہی سنے گا۔
عدالت نے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کو روسٹرم پر بلا کر پوچھا آپ کا بیٹا جیل میں ہے کیا آپ مقدمہ چلانا چاہتے ہیں ؟ حفیظ اللہ نیازی نے جواب دیا کہ جی بالکل میں کیس چلانا چاہتا ہوں ۔ عدالت نے سماعت مؤخر کرنے کی درخواست 20 ہزار روپے جرمانے کے ساتھ خارج کر دی۔
عدالت نے فوجی عدالتوں کو مقدمات کا فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد کر دی۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دئیے کہ اجازت دینے کا مطلب فوجی عدالتوں کا اختیار تسلیم کرنا ہوگا۔ عدالت نے مزید سماعت کل تک کے لئے ملتوی کردی۔