آزاد کشمیر حکومت نے صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا۔ نوٹیفکشن بھی جاری کردیا گیا۔
حکومت کے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا ۔ کوہالہ کےمقام پرنوٹیفکیشن عوامی ایکشن کمیٹی قائدین کے حوالے کردیاگیا ۔
حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان بارہ نکاتی معاہدے پراتفاق طے پایا، چھ ماہ میں تمام مطالبات پرعملدرآمد کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس عرصے میں معاہدے کی شقوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا، معاہدہ ہونے کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 23 جنوری کی لانگ مارچ کی کال واپس لے لی۔
یاد رہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کسی بھی احتجاج اور جلسے سے ایک ہفتے قبل ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا تھا، اس کے علاوہ کسی غیر رجسٹرڈ جماعت یا تنظیم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
اس آرڈیننس کو مرکزی بار ایسوسی ایشن مظفر آباد اور آزاد کشمیر بار کونسل کے 3 ارکان نے آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں درخواست دائر کردی تھی۔
تاہم سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے پرامن احتجاج اور امن عامہ سے متعلق آرڈیننس 2024 کا نفاذ معطل کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 2 اپیلیں منظور کرلی تھیں، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے آرڈیننس کی منسوخی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔