سپریم کورٹ میں 9 مئی واقعات، فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل، الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم، لاپتہ افراد کی بازیابی، تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے، آڈیوز لیک، پی آئی اے نجکاری، آئی پی پیز معاہدے اور قرضوں کی معافی کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔
رجسٹرار آفس کی کاز لسٹ کے مطابق مبینہ انتخابی دھاندلی کیخلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر 11 دسمبر کو سماعت ہوگی۔ شیر افضل مروت سمیت دیگر نے بھی اسی حوالے سے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ تمام درخواستوں میں 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
9 دسمبر کو فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف حکومتی اپیلیں سنی جائیں گی۔ آئینی ترمیم پر فیصلے تک سماعت مؤخر کرنے کی متفرق درخواست بھی اسی روز مقرر کردی گئی۔ مرکزی اپیلوں کے ساتھ ہی سابق چیف جسٹس کی درخواست پر بھی سماعت ہوگی۔ 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کیلئے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر 10 دسمبر کو سماعت ہوگی۔
بانی تحریک انصاف کے خلاف توہین عدالت کیس 10 دسمبر کو سنا جائے گا۔ حکومت نے یہ درخواست 25 مئی 2022 کے احتجاج میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پردائر کی تھی۔ بانی سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمات کے اندراج کیخلاف درخواست بھی 10 دسمبر کی کاز لسٹ کا حصہ۔۔ غیرقانونی افغان باشندوں کی بے دخلی کیخلاف دائر درخواستیں 9 دسمبر کو لگ گئیں۔ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے خیبرپختونخوا کی جیل میں منتقل کرنے کی درخواست 10 دسمبر کو مقرر ہے۔ جبکہ صحافی ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس 9 دسمبر کو سنا جائے گا۔
سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔ آئینی بینچ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، رکن پاکستان بار اشتیاق احمد کی جانب سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے معاملے پر الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم کے خلاف دائر کی گئیں اور مذکورہ درخواستیں 4 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مذکورہ درخواستوں پر اعتراضات عائد کر رکھے ہیں تاہم آئینی بینچ نے درخواستیں اور اعتراضات کے خلاف اپیلیں ایک ساتھ سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا چھ رکنی آئینی بینچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔
خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا تھا۔
الیکشن ترمیمی ایکٹ کے تحت ترجیحی فہرستیں جمع کرانے اور سیاسی وابستگی برقرار رکھنے والے ہی مخصوص نشستوں کے حق دار ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومتی اتحاد کی جانب سے کی گئی اس ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی تھی۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں مختلف بینکوں سے 54 ارب روپے کے قرضے معاف کرانے کے خلاف کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔
پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کا کیس بھی سماعت کے مقرر کردیا گیا جبکہ ملک سے لوٹی گئی دولت واپس لانے کے لیے دائر درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ 3 دسمبر کو ان کیسز کی سماعت کرے گا۔ عدالت نے وفاقی حکومت سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا جبکہ لاپتہ سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے لیے دائر اعتزاز احسن کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس نعیم اختر افغان آئندہ ہفتے آئینی بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 6 رکنی آئینی بینچ 3 دسمبر کو ان مقدمات کی سماعت کرے گا۔ عدالت نے وفاقی حکومت سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے۔
سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔ جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سپریم کورٹ کا 6 رکنی آئینی بینچ 2 دسمبر کو سماعت کرے گا۔ اس حوالے سے عدالت عظمیٰ نے مقدمے کے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔