رواں برس کا سیاحتی سیزن اختتام پذیر ہوگیا۔ ناران اور آگے کے تمام پرفضا مقامات کو سیاحوں کیلئے بند کردیا گیا۔ وادی ناران اور آس سے آگے تمام سیاحتی مقامات کو باقاعدہ سیاحوں کیلئے بند کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر خالد اقبال نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ناران میں تمام ہوٹلز اور ریسٹورنٹ بند ہوگئے ہیں بجلی کی ترسیل بھی معطل ہو چکی ہے پولیس اسٹیشن آور چیک پوسٹ بھی بند ہوچکی ہے۔ تاہم سیاح شوگراں کاغان تک سفر کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ناران اور بالائی علاقے سخت سردی کی لپیٹ میں ہیں جہاں رات کو درجہ حرارت منفی تین سے پانچ سنٹی گریڈ تک گر جاتا ہے اور سفر کرنا انتہائی خطر ناک ہوتا ہے۔
قبل ازیں پاکستان اور چین کو زمینی آمدرفت کے ذریعے ملانے والی خنجراب سرحد کو دونوں جانب سے 30 مارچ تک بند کردیا گیا ہے۔ دو طرفہ معاہدے کے مطابق خنجراب سرحد کو تجارت سیاحت اور عام آمدرفت کیلئے ہر سال یکم اپریل سے 30 نومبر تک کھل دیا جاتا ہے۔
اس سال ایک روز قبل اس لئے بند کیا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کو معمول کی چھٹی ہوتی ہے ۔ سطح سمندر سے تقریباً ساڑھے 15 ہزار فٹ بلند خنجراب سرحد پر ماہ نومبر سے مارچ تک زیادہ برف باری کیوجہ سے ٹریفک کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔





















