پاکستان کے دستور کا آرٹیکل چھ ہے کیا ؟ یہ کب اور کس پر لگایا جاسکتا ہے ؟ آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا طریقہ کار کیا ہے اور سزا کیا مل سکتی ہے؟
آئین پاکستان کا آرٹیکل 6 سنگین غداری اور اس کی سزا سے متعلق ہے ،آرٹیکل 6کے مطابق کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا کسی دوسرے غیر آئینی طریقے سے آئین کو منسوخ کرتا ہے یا معطل کرتا ہے یا التواء میں رکھتا ہے۔
اسی طرح اگر آئین منسوخ کرنے یا توڑنے یا معطل کرنے کی کوشش کرتا ہےیا ایسی سازش کرتا ہے،تو وہ سنگین غداری کا مرتکب ہوگا،ایسے فرد یا افراد کی مدد یا حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی بھی شخص اسی طرح سنگین غداری کا مجرم قرار پائے گا۔
آرٹیکل چھ کی شق دو کے تحت شق ایک میں درج شدہ سنگین غداری کو سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت سے جائز قرار نہیں دیا جائے گااس کی شق تین کہتی ہے کہ سنگین غداری کیس کا شکایت کنندہ صرف وفاق ہوگا اور اس میں مجرم قرار دیئے جانے والے کو سزائے موت یا عمر قید ہوگی ،سنگین بغاوت کا مقدمہ سننے کی مجاز سپریم کورٹ نہیں بلکہ سیشن کورٹ ہے ۔
آئینی ماہرین کے مطابق پارلیمنٹ نے ’سنگین بغاوت کی سزا کے قانون‘ کے ذریعے اس کا مقدمہ درج کیے جانے کی تمام تفصیلات طے کر دی ہیں۔
آئین کے مطابق کوئی عدالت اس قانون کے تحت اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکتی جب تک اس جرم کے واقعہ ہونے کی تحریری شکایت کسی ایسے فرد کی جانب سے متعلقہ سیشن عدالت میں دائر نہ کی جائے جسے وفاقی حکومت نے ایسا کرنے کے لیے اختیار دیا ہو۔
سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کو موت کی سزا اسی آرٹیکل کے تحت سنائی گئی تھی ۔






















