سرگودھا یونیورسٹی میں ہونے والی دوسری انٹرنیشنل کانفرنس میں پاکستانی ادیب ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کےسفرنامے "زبان یارِ من ترکی" کی رونمائی و پذیرائی کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر اعجاز اضغر نے کی جبکہ ڈاکٹر قیصر عباس وائس چانسلر بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ اور پروفیسر ڈاکٹر غلام عباس، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز مہمان اعزاز و مبصر تھے۔ جبکہ سرگودھا یونیورسٹی اور لاہور یونیورسٹی سرگودھا کیمپس کے طلبہ اور طالبات کی بڑی بھاری تعداد نے شرکت کی ۔
یہ کتاب ترکی پر ایک تحقیقی اور تاریخی سفرنامہ ہے جو تین سال میں مکمل ہوا، کتاب میں عثمانی ترکوں کے دور حکومت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے،پروفیسر ڈاکٹر اعجاز اصغر نے ترکی اور پاکستان کے دیرینہ سماجی، سیاسی ثقافتی تعلقات پر روشنی ڈالی۔
ڈین اردو اور آرٹس ڈیپاٹمنٹ جناب پروفیسرڈاکٹر غلام عباس نے کتاب کے حوالے سے اپنے خصوصی خطاب میں کہا زبانِ یارِ من ترکی "، ترکی کے حیرت انگیز سفر پر مبنی یہ کتاب پاکستان اور ترکی کے درمیان عمیق تعلقات کی عکاسی کرتی ہے اور ڈاکٹر تصور بھٹہ کا قلم تاریخ، ثقافت اور دونوں ممالک کے مابین گہرے جذباتی بندھن کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "زبانِ یارِ من" محض ایک کتاب نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان موجود بے پناہ محبت، احترام اور باہمی اشتراک کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس سفرنامے کے ذریعے، مصنف نے ترکی کی زمینوں پر اپنے قدم رکھنے کے لمحات کو بیان کیا ہے، جہاں ہر گوشہ، ہر بستی اور ہر شہر پاکستان اور ترکی کے مابین دیرینہ دوستی کی کہانیاں سناتا ہے۔
پروفیسرڈاکٹر غلام عباس نے کہاکہ اس کتاب کا اجراء پاکستان اور ترکی کے تعلقات میں ایک نیا باب رقم کرنے کا سبب بنے گا، جو کہ ایک دوسرے کی ثقافت، تاریخ اور عوام کے مابین محبت اور احترام کو مزید مضبوط بنائے گا۔





















