عبدالعلیم خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونےوالوں کو مبارکباد پیش کرتاہوں، سردار تنویر الیاس نے اپنے گروپ کے ہمراہ آئی پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا ان کا خیرمقدم کرتا ہوں۔
تفصیلات کے مطابق صدر آئی پی پی کا کہناتھا کہ علی محمد یوسف،نثارابدالی، سردار افتخار رشید،تقدیس گیلانی کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ امید کرتا ہوں انشاء اللہ ان کے آنے سے ہماری پارٹی پورے پاکستان میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پی کےتمام قائدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تمام رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پارٹی کیلئےکام کیا، آزاد کشمیر پاکستان کادل ہے، قائداعظم نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، پاکستان کشمیر کےبغیر مکمل نہیں، پاکستان میں سب سے حسین جگہ کشمیر ہے، اللہ نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا موقع دیا تو خوبصورت ڈویلپمنٹ کریں گے، جتنی پارٹیاں برسراقتدار رہیں وہ اپنے منشور پر عمل نہیں کراسکیں۔
صدر آئی پی پی کا کہناتھا کہ عوام کو ان جماعتوں سے حساب لینا چاہیے، کشمیر کے عوام باری باری حکومتیں بنانے والی جماعتوں سے سوال کریں، برسر اقتدار رہنے والی جماعتیں آج کی محرومیوں کی ذمہ دارہیں، نوجوانوں کو پتا ہونا چاہیے ان کا مستقبل روشن ہے، کشمیری بہن بھائیوں سے وعدہ ہےان کی خدمت کریں گے۔
ان کا کہناتھا کہ آئی پی پی اقتدار میں آکر نوجوانوں کے روزگار کا بندوبست کرے گی، آزادکشمیر پاکستان کا سوئٹزرلینڈ ہے، سیاحت کیلئے بنیادی سہولیات ہونا ضروری ہیں، باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہو گا عملی اقدامات کرنا ہوں گے، وزیراعظم سے کہا میری 2وزارتیں کسی اور کو دے دیں، وزیراعظم نے کہا وزارتیں تو کوئی نہیں چھوڑتا، وزیراعظم کو کہا میں وزارت مواصلات پرفوکس کرنا چاہتا ہوں۔
وزیر مواصلات نے کہا کہ اگر میں اس پر بھی فوکس کرپاوں تو بھی بڑی بات ہے ، ہم نے 2 سال میں این ایچ اے کاریونیو جو کہ 66 ارب تھا اسے بڑھا کر 130 ارب روپے کر دیاہے، انفراسٹرکچر باتوں سے نہیں پیسے سے بننا ہے، میں نے وزیراعظم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قابل رکھا تو میں 3 سال بعد اس محکمے کو 400 سے 500 ارب روپے سالانہ کمانے والا ادارہ بنا دوں گا، اس سال کا ٹارگٹ بھی 200 ارب سے زیادہ رکھاہے، اگر ملک کی ترقی میں ہم اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے تو کون ڈالے گا، آپ سب کشمیر سے آئے ہیں، آپ نے مری ایکسپریس وے دیکھی ہے، ایک سال پہلے وزیراعظم نے مجھے کہا کہ میں اس سے گزرا ہوں اور میرا بہت دل دکھا ہے، میں نے کہا تھا کہ آپ آئندہ جب اگلے سیزن میں جائیں گے تو مجھے پیغام ضرور بھیجے گا، ان کا پیغام میرے پاس محفوظ ہے، وزیراعظم بہت خوش ہوئے اور کہا کہ کمال سڑک بن گئی ہے ۔ وہ سڑک میں نے انہی لوگوں سے بنوائی ہے۔
میں کراچی میں لیاری ایکسپریس وے بنا رہا ہوں ، جس طرح کی مری کی سڑک بنی ہے اس سے بھی زیادہ اچھی کراچی کی ایکسپریس وے بنائیں گے، جو آپ اپنے کاروبار کیلئے محنت کر سکتے ہیں تو اس ملک کیلئے کیوں نہیں کر سکتے، ہم اپنا کاروبار بھی اپنا سمجھتے ہیں تو اس ملک کو بھی اپنا سمجھ لیں، ہم نے پچھلے سال فیصلہ کیا ، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو پچھلے سال ملا، میں نے کہاکہ آپ کے سیاحت کے شعبے میں بہت بڑی خرابی ہے جب یہاں سے لوگ واپس جاتے ہیں تو ہمیں کہتے ہیں کہ میری تو کمر رہ گئی ہے، اتنی سڑک خراب تھی، اتنی خوبصورتی تھی لیکن جب میں کھائی دیکھی تو جو بھی مجھے سورتیں آتی تھیں سب پڑھ لیں، میں نے انہیں کہا کہ بھئی اگر گلگت میں ترقی کرنی ہے تو کیسے ہوگی اگر سڑک ہی نہیں ہو گی۔ آپ یہ سڑکیں ہمیں دیدیں ، ہم آپ کو این ایچ اے کے تحت ساری سڑکیں بنا کر دیتے ہیں، میں نے ان سے وہ ساری سڑکیں اس وقت لیں جب وہاں پر کوئی الیکشن کا دور نہیں تھا، میں نے کہا کہ ساری سڑکیں ہم بنا کر دیں گے، ہم پورے پاکستان کیلئے ٹول ٹیکس لگائیں گے لیکن جو گلگت بلتستان کا مقامی شہری ہوگا وہ ٹول فری گزرے گا،
پوری دنیا نے یہ کیاہے، چھوٹے چھوٹے ملک اربوں ڈالر بنا رہے ہیں، لوگ پوری دنیا سے لوگوں کو اکھٹاکر رہے ہیں، ہمارے پاس تو 25 کروڑ عوام ہیں،جب کراچی والوں اپنے بچوں کو کہیں لے جانے کادل کرے تو کراچی والوں کے پاس کونسی جگہ ہے ؟گلگت ہے یا وہ جگہ کشمیر ہے، یہی جگہیں ہیں، اس لیئے ہمیں اس علاقے کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے پورا پلان بنانا پڑے گا، جس طرح بزنس پلان ہوتاہے، یہ مشکل نہیں ہے بلکہ ممکن ہے، اس کیلئے دل میں ایمانداری ہونی چاہیے۔
ایک دن مجھ سے اسمبلی میں سوال پوچھ لیا گیا کہ آپ وہ سکھر حیدرآباد موٹروے کب بنا رہے ہیں، جنہوں نے 30 سال حیدرآباد اور سکھر موٹروے نہیں بنائی وہ میرے سے پوچھ رہے ہیں کہ کب بنائیں گے، میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو معاف کرتاہوں ، دعا کرتاہوں کہ عوام بھی آپ کو معاف کردے ، میں آپ سے نہیں پوچھوں گا کہ آپ کیا کرتے رہے ہیں، ذرا 30 سال کا اپنا حساب دیدیں، لاہور اسلام آباد موٹروے 1997 میں بنی تھی، آج تک کون کون سی حکومت رہی، وہ اپنا حساب تو دیدیں، یہ انشاء اللہ اسی سال شرو ع ہوگی، یہ موٹروے صرف سکھراور حیدرآباد کی نہیں ہو گی بلکہ اسے کراچی تک پہنچائیں گے ، یہ موٹروے کراچی پورٹ سے نکلے گی اور پورا پاکستان اس کے ساتھ جڑے گا۔
لاہورسیالکوٹ کھاریاں موٹروے 6 لین بنے گی، مظفرآباد تک بھی سڑک بنائیں گے، کشمیریوں سے وعدہ ہے علاقے کی محرومیوں کو دور کروں گا، ملک کیلئے جو ہو سکاوہ کر کے جاؤں گا۔
گلگت بلتستان الیکشن میں ہم تیسرے نمبر پر آئے، گلگت بلتستان الیکشن میں جو جیتاہم نے مبارکباد دی، جی بی میں 47ہزارووٹ حاصل کئے، جی بی میں ہمارے اچھے امیدوار تھے، دوسری پارٹی والے جیت جائیں تو خوش ہوتے ہیں ہار جائیں تو رونا شروع کر دیتے ہیں، جی بی الیکشن میں ہم تونہیں روئے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ سوال ہوتا ہے جی بی میں آزاد امیدوار آئی پی پی میں کیوں آئے؟،ہمارے پاس آنے سے پہلے وہ دونوں جماعتوں کے پاس گئے، مسلم لیگ ن نے کہا ہم گلگت بلتستان میں اپوزیشن میں بیٹھیں گے،پیپلزپارٹی کا کہنا تھا 9 ارکان ہمارے اپنے ہیں،اُن کے بعد آپ کا نمبر ہوگا ، آزاد ارکان استحکام پاکستان پارٹی میں آئے تواُن کو ایک ، دو اور تین نمبر ملے،سیاسی صحافیوں کو یہ بات نہ جانے کیوں سمجھ نہیں آرہی،آج کشمیر کے لوگ ہمارے پاس آئے ہیں، یہ سیاسی لوگ ہیں،انہوں نے نئے ویژن کے ساتھ آزاد کشمیر میں سیاست کرنی ہے،کیا اُنہی جماعتوں میں جانا ہے جو محرومیوں کے ذمہ دار ہیں،جو پہلے محرومیاں دور نہ کرسکے وہ اب کیا کریں گے، آزاد کشمیر کے بچوں کو سو فیصد تعلیم دی جائے گی۔
صدر آئی پی پی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں موٹروے اور ائیرپورٹ بنیں گے، وادی میں سیاحت آئے گی،آزادکشمیرکے فیصلے کشمیر میں بیٹھ کر ہوں گے،اگر آزاد کشمیر میں کرپشن ہوئی تو اُس کا ذمہ دار میں ہوں گا، آزاد کشمیر میں جو کرپشن میں ملوث پایا گیا، وہ وزیر نہیں رہےگا۔
براہ راست دیکھیں:





















