مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو کمپنی میں 5 فیصد شراکت داری دینے کی تجویز پیش کی ہے، جسے ٹیکنالوجی اور سیاسی حلقوں میں ایک غیرمعمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں پر بڑھتی ہوئی حکومتی نگرانی اور ممکنہ سخت قوانین کے خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ فنڈنگ راؤنڈ کے بعد اوپن اے آئی کی مجموعی مالیت تقریباً 852 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس کے مطابق 5 فیصد حصص کی مالیت لگ بھگ 42.6 ارب ڈالر بنتی ہے۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کا کہنا ہے کہ اس شراکت داری کا مقصد الاسکا پرمیننٹ فنڈ کی طرز پر ایک پبلک ویلتھ فنڈ قائم کرنا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد براہِ راست امریکی شہریوں تک پہنچ سکیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث روزگار، قومی سلامتی اور ریگولیشن سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں حکومت کو کمپنی کا حصہ دار بنانے کی تجویز ان خدشات کو کم کرنے اور سرکاری اداروں کے ساتھ اعتماد کو فروغ دینے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے قبل مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کر چکے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے کسی نجی ٹیکنالوجی کمپنی میں سرمایہ کاری کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل حکومت انٹیل میں بھی تقریباً 8.9 ارب ڈالر مالیت کے ساتھ 10 فیصد حصہ حاصل کر چکی ہے۔
تاہم اوپن اے آئی کی اس مجوزہ شراکت داری کو عملی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہو سکتی ہے، جبکہ اس حوالے سے بات چیت تاحال ابتدائی مرحلے میں ہے۔




















