وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نےکہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کےطاقتورترین معاہدوں میں سے ایک ہے،عالمی عدالت انصاف بھی قراردے چکی ہےکہ اس معاہدے کومعطل یا التواء میں نہیں ڈالا جاسکتا،سندھ طاس معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔
وفاقی وزیرمصدق ملک نےسندھ طاس معاہدےپربین الاقوامی سیمینارسےخطاب میں کہا پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کاسامنا کیا،یہ ماحولیاتی یا پانی کےبحران کا مسئلہ نہیں،انصاف کامعاملہ ہے،اصل مسئلہ پانی کوکنٹرول کرکےبطورہتھیاراستعمال کرناہے،پاکستان واضح کرچکاکہ اپنےحصےکےپانی پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اگریہ معاہدہ نہ رہا تو پھر دنیاکاکوئی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا،عالمی عدالت قرار دےچکی کہ معاہدہ معطل یا التواء میں نہیں ڈالاجاسکتا،جی ڈی پی کاایک چوتھائی اور فوڈ سیکیورٹی کا انحصارپانی پر ہے، پاکستان اپناخیال خود رکھ سکتا ہے،ماضی میں سب نےدیکھ بھی لیا،دنیاکی کوئی بھی طاقت پاکستان کا پانی نہیں روک سکتی۔
وفاقی وزیر نے مزیدکہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے، 6 ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے،یہ معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان 3 جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔






















