قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کرلی۔ پی آئی اے جہازوں کے لئے پرزوں کی خریداری پر ٹیکس چھوٹ کی بھی منظوری دیدی گئی ۔ غیر رجسٹرڈ دکانداروں پر 5 فیصد ہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا ۔ کمیٹی ممبران نے ایف بی آر کی جانب سے دو ٹریلین روپے کی ٹیکس چھوٹ پر اعتراض اٹھایا۔
ایف بی ار حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یوٹیوب سے ڈالرز بینک میں آئیں گے تو وہاں ودہولڈنگ ٹیکس لگے گا ۔ پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیا سے کمائی 10 ارب روپے تک ہے۔
کمیٹی نے ایکسپورٹرز پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔ کمیٹی کے بلانے پر سیکرٹری نجکاری کمیشن اجلاس میں پہنچے تو کمیٹی چیئرمین نوید قمر نے استفسار کیا پی آئی اے کیلئے جہازوں اور پرزہ جات پر ٹیکس چھوٹ کتنے عرصے کیلئے ہے ؟ سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا چاروں بڈرز نے مخصوص اشیا پر استثنیٰ کا مطالبہ کیا ۔ نجکاری معاہدے کے مطابق نو اشیاء پر پندرہ سال کیلئے ٹیکس چھوٹ ہوگی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ چھوٹ کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کا تھا ۔ آئی ایم ایف مشکل سے مانا تھا ۔ اگر ہم نے ٹیکس استثنیٰ واپس لے لیا تو پی آئی اے نجکاری ڈیل ختم ہو جائے گی ۔ کمیٹی نے پی آئی اے جہازوں کے لئے پرزوں کی خریداری پر ٹیکس چھوٹ کی منظوری دیدی ۔
چار سال سے پہلے لائف انشورنس پر منافع لینے والوں پر چار فیصد ٹیکس، تجارتی جہازوں ، ٹینکرز کی مشینری امپورٹ پر سیلز ٹیکس استثنی کی تجاویز بھی منظور کر لی گئیں ۔ اسٹیشنری پر سیلزٹیکس ختم کرنے کی تجویز وزارت خزانہ اور ایف بی ار کی مخالفت کے باعث منظور نہ ہو سکی۔



















