سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سماء ٹی وی کے پروگرام ’’ ریڈلائن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کل بجٹ پر بریفنگ کیلئے اجلاس کیا،بریفنگ میں بتایا گیا پیپلز پارٹی سے جو وعدے ہوئے انہیں بجٹ میں نہیں رکھا گیا، اسحاق ڈار نےآج پیپلز پارٹی کے سامنے تمام چیزیں رکھیں،مطمئن کیا۔
راناثنااللہ نے کہا کہ ہمارا مؤقف تھا این ایف سی میں تبدیلی لائی جائے،پیپلزپارٹی نے اختلاف کیا،این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی پر اتفاق رائےنہیں ہوا،پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا مرکز کی ضروریات کو وسائل بڑھا کر پورا کرنا چاہیے، پیپلزپارٹی نے ضد یا ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کیا، این ایف سی پر تمام صوبے بیٹھیں گے تو اتفاق رائے سے تبدیلیاں آئیں گی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا الیکشن حکومت کا کریڈٹ ہے،وزیراعظم نے خیال رکھا کہ جی بی الیکشن شفاف ہونے چاہئیں،گلگت بلتستان کے الیکشن قابل اعتبارہیں،الیکشن کمیشن نے جی بی میں درخواستوں پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا، پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان الیکشن پر چیف الیکشن کمشنر پر شک ہوا، الیکشن کمیشن نے 2 سے 3 جگہ پر دوبارہ گنتی اور ایک، دو جگہ پر ری پولنگ کی۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے میرٹ پر فیصلہ کیا،پیپلزپارٹی کے شک وشبہات دور ہو گئے، ہم گلگت بلتستان میں 6 سیٹوں پر جیتےہیں،ہمارے حمایت یافتہ 2 امیدوار جیتے، گلگت بلتستان میں ہم 8 اور 9 سے 10 سیٹیں پیپلزپارٹی جیتی،یہ کونسی ہارہے؟ کیا ہم5آزادامیدواروں کو ساتھ ملا کر حکومت نہیں بنا سکتے تھے؟ نوازشریف کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے جس جماعت کی اکثریت ہو وہ حکومت بنائے، آزاد امیدوار اور ہمارے 6 امیدوار ہمارےحکومت نہ بنانے کے فیصلے پر ناراض ہوئے، امیدواروں نے وزیراعظم سے گلہ کیا،وزیراعظم نے کہا پارٹی قائد کا فیصلہ تھا، ہم نے جمہوری رویے کا مظاہرہ کیا،جی بی میں پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے کا کہا۔
ان کا کہناتھا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ پیپلزپارٹی کو ہمیشہ خوش اور مطمئن رکھا جائے، ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کا کراچی،بلدیاتی الیکشن اور 140 اے پر ٹکراؤ ہوتا ہے، ہم کوشش کرتے ہیں کہ ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کو مطمئن رکھا جائے، فیصل واوڈا کی گفتگوحدود و قیود کے اندر نہیں ہوتی، فیصل واوڈا ہمیشہ غیر سنجیدہ گفتگو کرتے ہیں،ان کے ساتھ زیادتی ہوئی، میں نے وزیراعظم کو کہا فیصل واوڈا کو سینیٹ کی نشست پر ٹرخا دیا گیا، فیصل واوڈا کابینہ کا حصہ بننا چاہتے تھے، فیصل واوڈا نے ایک اور مطالبہ کیا تھا جو وزیراعظم پورا نہیں کر سکے،اس لئے غصہ کرتےہیں، ہم نےفیصل واوڈا سے کوئی وعدہ نہیں کیاتھا۔
رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال قابومیں ہے،راولاکوٹ کے سوا آزاد کشمیر کے 9 اضلاع میں کہیں صورتحال خراب نہیں، راولاکوٹ میں اُن کے لیڈرز اکٹھے ہوتےہیں تو 5سے 6 ہزار افراد جمع ہوتےہیں،جب اُن کے لیڈرز راولاکوٹ میں جمع نہیں ہوتے توہزار ڈیڑھ ہزار افراد ہوتےہیں۔






















