مالی سال 2025-26 کے اقتصادی سروے کے مطابق مختلف شعبوں کو گزشتہ دو برسوں کے دوران مجموعی طور پر 8 ہزار 182 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، جسے ٹیکس اخراجات کا نام دیا گیا ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق سال 2024-25 میں 5 ہزار 840 ارب روپے کی ٹیکس رعایت یا چھوٹ دی گئی، جبکہ مالی سال 2025-26 میں مزید 2 ہزار 352 ارب روپے کا ٹیکس استثنٰی فراہم کیا گیا۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹیکس چھوٹ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں دی گئی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں صرف سیلز ٹیکس کے تحت 1 ہزار 273 ارب روپے کا استثنٰی ریکارڈ کیا گیا۔
اقتصادی دستاویز کے مطابق اسی عرصے میں 560 ارب روپے انکم ٹیکس اور 499 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں چھوٹ دی گئی۔
سیلز ٹیکس کی مد میں یہ رعایتیں درآمدات اور مقامی سطح پر اشیاء کی سپلائی دونوں پر لاگو رہیں۔
فاٹا اور سی پیک منصوبے بھی ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھانے والے اہم شعبوں میں شامل رہے ہیں، جبکہ آٹو موبائل سیکٹر کو بھی ٹیکس کریڈٹ کی مد میں استثنٰی دیا گیا ہے۔




















