نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاعی اور ترقیاتی اخراجات کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دفاعی شعبے کیلئے 2665 ارب روپے جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کیلئے 1126 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 1126 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مجوزہ پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ 730 ارب روپے انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
سماجی شعبے کے ترقیاتی بجٹ میں 40 ارب روپے اضافے کے بعد مجموعی طور پر 187 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ آبی وسائل کے منصوبوں کیلئے 179 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فزیکل پلاننگ اور ہاؤسنگ کے شعبے کیلئے 45 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ تعلیم کے شعبے پر مجموعی طور پر 77 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔ مجوزہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم کیلئے 36 ارب روپے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔
صحت کے شعبے کیلئے 22 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے تاکہ جاری اور نئے منصوبوں پر کام جاری رکھا جا سکے۔
دوسری جانب مجوزہ بجٹ میں اضافی ٹیکسوں کے باعث ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، بسوں، ٹرکوں اور سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق برقی پک اپ، ٹریکٹرز اور ڈبل کیبن گاڑیاں بھی نئے ٹیکسوں کی زد میں آسکتی ہیں، جس سے ان کی لاگت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
اسی طرح فارمولا دودھ، کیچ اپ، گھی، کوکنگ آئل اور چائے پتی سمیت مختلف اشیائے صرف پر عمومی فروختی ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے ان مصنوعات پر پرچون قیمت کی طباعت لازمی قرار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔




















