وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس دوران پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کیلئے7 ارب 2 کروڑ 63 لاکھ کی گرانٹ جبکہ پاک بحریہ کے ہنگور پراجیکٹ کیلئے 10 ارب 15 کروڑکی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کر لی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کیلئے69 کروڑ 29 لاکھ ، امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ اسلام آباد دھماکے کے متاثرین کیلئے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے، لینڈ پورٹس اتھارٹی کی آپریشنل ضروریات کیلئے 52 کروڑ 80 لاکھ روپے، کوسٹ گارڈز کیلئے فاسٹ پیٹرول بوٹس اور انفراسٹرکچرکی خریداری کیلئے 80 کروڑ ، اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبے کیلئے ایک ارب 88 کروڑ37 لاکھ روپے، نیکٹاکی آپریشنل ضروریات کیلئے15 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ ، ریکوڈک منصوبے کے سیکیورٹی اخراجات کیلئے41 کروڑ39 لاکھ روپے کی منظوری دیدی گئی ۔
ضلع شگر گلگت بلتستان میں ٹیلی کام ٹاورزکی تنصیب کیلئے 18 کروڑ 35 لاکھ روپے ، پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہوں والاؤنسز کیلئے 11 کروڑ 99 لاکھ روپے، کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر پیکجز کیلئے 8 ارب 75 کروڑ 89 لاکھ روپے، خیبر پختونخوامیں ایس اے پی منصوبوں کیلئے 2 ارب 84 کروڑ روپے ، پاکستان منٹ کی اپ گریڈیشن منصوبے کیلئے ایک ارب 30 کروڑ کی تکنیکی ضمنی گرانٹ ، گلگت بلتستان کے اخراجات اور ترجیحی منصوبوں کیلئے 4 ارب 37 کروڑ 70 لاکھ روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی گئی ۔
اعلامیہ کے مطابق ای سی سی نے بجٹ آنریریم پالیسی کی منظوری بھی دے دی، وزارت تجارت،وزارت قانون اور اے جی پی آر بھی اہل اداروں میں شامل ہیں،آئی پی او پاکستان کے مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں ، اینگروووپک ٹرمینل لمیٹڈکی آپریشنل سرگرمیوں کے تسلسل ، پی ایس او کیلئے100 ارب روپے تک کی سنڈیکیٹڈ فنانسنگ سہولت جاری رکھنے، سینرجیکو کے ساتھ ڈیڈ آف سیٹلمنٹ کے نظرثانی شدہ فریم ورک کی منظوری دی گئی ۔ ڈیڈ آف سیٹلمنٹ کی منظوری سے ریفائنری اپ گریڈیشن کی راہ ہموار ہو گی۔ اقتصادی امور ڈویژن کیلئے رہائشی کرایوں کی ادائیگی کیلئے 2 کروڑ 99 لاکھ روپے، پارلیمنٹ ہاؤس کی جامع مسجدکی توسیع کیلئے 3 کروڑکی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کر لی گئی۔




















