پاکستان اور تاجکستان نے اقتصادی، تجارتی اور توانائی تعاون کو نئی رفتار دینے پر اتفاق کرلیا، دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم دو سو ملین ڈالر تک بڑھانے کے روڈ میپ کی توثیق کر دی۔
دوشنبہ میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مشترکہ کمیشن کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا جس میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پاکستانی وفد جبکہ تاجکستان کے وزیر توانائی و آبی وسائل جمعہ دلیر شوف نے اجلاس کی قیادت کی۔اجلاس میں دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم دو سو ملین ڈالر تک بڑھانے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا جبکہ بزنس ٹو بزنس روابط اور آن لائن کاروباری پلیٹ فارمز کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
تاجکستان کی ایکسپورٹ ایجنسی اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا گیا۔دونوں ممالک نے کاسا ایک ہزار منصوبے پر پیشرفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے باقی ماندہ کام بروقت مکمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس میں زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ روڈ میپ کو حتمی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا جبکہ تاجکستان نے پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے تاجکستان کے وزیراعظم قاہر رسول زادہ سے بھی ملاقات کی اور پاکستانی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی تعاون اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔





















